حلقہ اسمبلی بہادرپورہ کے اس علاقے میں ایک ماہ سے عوام کو پینے کا پانی میسر نہیں، عوام برہم
حیدرآباد ۔11 ۔ اپریل( سیاست نیوز )۔ ہر انسان کی چاہت ہوتی ہے کہ اُس کا ایک ذاتی مکان ہو ، اس کے لئے لوگ یا تو زمین خریدتے ہیںیا پھر تیار شدہ مکان۔ ہر شخص کی اپنی اپنی گنجائش ہوتی ہے، اُسی لحاظ سے وہ آگے قدم بڑھاتے ہیں ۔لیکن پرانے شہر کے گنجان آبادی والے علاقوں میں لوگوں کو زمین کی بہت زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے جس کے پیش نظر غریب افراد کم قیمت والی زمین خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔کم قیمت والی زمین صرف پہاڑی یا اونچائی پر ملتی ہے جہاں پر نہ تو برقی سربراہی ہوتی ہے اور نہ ہی پینے کے پانی کی سہولت۔ اتنا ہی نہیں بلکہ پختہ سڑکوں سے محروم رہتے ہیں، لیکن غریبی نے لوگوں کو یہ تمام مصیبتیں برداشت کرنے پر مجبور کردیا ہے۔پرانے شہر کے بیشتر علاقوں میں انتہائی غریب طبقے کے لوگ رہتے ہیں۔ایسا ہی ایک علاقہ سنجے گاندھی نگرہے۔حلقہ اسمبلی بہادرپورہ کے بلدی ڈیوژن رنمست پورہ کے سنجے گاندھی نگر اور گلزار نگر کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔یہاں کے قبرستان کے قریب سڑک پر Drainage لائن کا کام گذشتہ ایک ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔ اس کام کے دوران پینے کے پانی کی گھریلو پائپ لائن کو منقطع کیا گیا ہے جس کی وجہ لوگوں کو گھروں سے دور جاکر پانی حاصل کرنا پڑرہا ہے۔ایک خاتون نے سیاست کو بتایا کہ سڑک کی کھدوائی کے باعث کئی افراد حادثات کا شکار ہورہے ہیں جس میں ان کے شوہر بھی گر کر زخمی ہوگئے ہیں۔اس کے علاوہ مقامی افراد نے بتایا کہ چھوٹے طلباء و طالبات اسکول جاتے وقت حادثوں کے شکار ہورہے ہیں جس کی وجہ والدین کافی پریشان ہیں ۔ایک طرف امتحانات قریب ہیں تو دوسری جانب کھدوائی کا کام ایک ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔ایسے میں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑکر دوسرے علاقے میں کراے کے گھروں میں رہنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ایک مقامی شخص نے بتایا کہ اُن کی والدہ کے علاج کے لئے کافی مشکل کے پیش نظر انہوں نے ایک کرایہ کا مکان قریبی بستی میں حاصل کیا اور اپنی والدہ کا علاج کرارہے ہیں ۔انہوں نے مقامی کارپوریٹر پرالزام عائد کیاکہ کئی بار یاددہانی کرانے کے باوجود کارپوریٹر نے یہاں کا دورہ نہیں کیا ۔ سنجے گاندھی نگر کی ایک خاتون نے بتایا کہ پینے کے پانی کے لئے کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔اس علاقے میں کئی بیوہ خواتین ہیں تو کئی خواتین کے شوہر ہارٹ پیشنٹ یا دوسری بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ جس کی وجہ سے یہاں کی خواتین کو محنت مزدوری بھی کرنی پڑتی ہے۔مقامی خواتین نے ہمیں بتایا کہ پانی لانے میں وقت بہت ضائع ہورہا ہے جس کی وجہ سے ان کے کئی کام خراب ہورہے ہیں اتنا ہی نہیں بلکہ جس دن پینے کا پانی لانا ہوتا ہے اُس دن بچوں کو اسکو ل کی چُھٹی کرنی پڑرہی ہیں ۔یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے پینے کے پانی کی ایک لائن پہاڑ تک تین سال قبل ڈالی گئی لیکن اس میں پانی کی سپلائی آج تک نہیں دی گئی ہے۔لوگوں نے سوال کیا ہے کہ کیا انھیں بنیادی سہولت فراہم کرنے کی ذمہ داری حکومت کی نہیں ہے۔واضح رہے کہ گذشتہ چند روز قبل ریاستی گورنر ای ایل نرسمہن نے محکمہ آبر سانی کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک میٹنگ کی ،جس میںانہوں نے عوام کو صاف اوربھرپور پانی سربراہ کرنے کی ہدایت دی ہے ۔اس کے باوجود محکمہ آبرسانی لاپرواہی سے کام لے رہا ہے۔