رمضان میں رعیتو بازاروں میں سبزی مہنگی

حکومت کی متعینہ قیمتیں نظر انداز ، صارفین میں غصہ
حیدرآباد ۔7جولائی( سیاست نیوز ) ۔ ماہ رمضان کے پیش نظر زیادہ تر مسلما ن رعیتو بازار جاکر ترکاری اور میوہ جات کی خریدی کرتے ہیں۔ اس بات کا فائدہ اٹھا کر کسانوں نے اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیاہے۔ بنیس کی پھلی کی حکومت کی جانب سے متعین کردہ قیمت 43 روپے فی کیلو ہے لیکن کسان اس پھلی کی قیمت 60 روپے فی کیلو کردیے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر کئی اشیاء ہیں جن کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے صارفین کو لوٹا جارہا ہے۔آج شہر کے رعیتو بازاروں میں ہیرا پھیری چل رہی ہے اور درمیانی افراد رعیتو بازاروں پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ عوام کو ملنے والے فائدے میں اپنا کمیشن نکال رہے ہیں۔ عوام کو رعیتو بازار کا بھر پورا فائدہ حاصل نہیں ہورہاہے۔رعیتو بازار کے صارفین کابہت نقصان ہورہا ہے۔پرانے شہر کے علاقے میں موجود فلک نما رعیتو بازار کے صارفین کی بھی یہی شکایت ہے کہ حکومت کی جانب سے متعین کردہ قیمت کو کوئی بھی کسان مان نہیں رہا ہے اور اضافی قیمت وصول کررہے ہیں۔اس کے علاوہ کسانوں کے پاس ترازو بہت پرانے ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے ترکاری کم مل رہی ہے ۔اور وزن کی چوری ہورہی ہے۔جس کی وجہ سے لوگوں کا کافی نقصان ہورہاہے۔فلک نما رعیتو بازار کے صارفین نے سیاست کو بتایا کہ جس مقصد کے لئے رعیتو بازار قائم کیا گیا ہے وہ مقصد پورا نہیں ہوراہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ کسان رعیتو بازار کے عملے کو رشوت کے طور پر تھوڑی ترکاری مفت فراہم کرتے ہیں تاکہ عوام کی شکایت دفتر میں جانے پر کسانوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔فلک نما رعیتو بازار میں حالانکہ معقول عملے کو تعینات کیا گیا ہے لیکن ارکان عملہ ایمانداری سے خدمات انجام نہیں دیتے ہیں۔کئی سوپر وائزرس ڈیوٹی سے غائب رہتے ہیں۔جس کی وجہ سے صارفین کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ صارفین شکایت کرنے آفس میں جاتے ہیں لیکن عملے کی غیر موجودگی کی وجہ مایوس ہو کر لوٹ آتے ہیں۔شہر کے تقریباً رعیتو بازاروں کا یہی حال ہے اور مہدی پٹنم رعیتوبازار میں صارفین نے متعدد مرتبہ شکایت درج کرائی ہے لیکن حکومت کی جانب سے خاطر خواہ ردعمل نہیں ملا ہے ۔حکومت کو چاہیئے کے ترکاریوں کی قیمتوں پر کنٹرول کرے اور عوام کو راحت پہنچائے۔عوام نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ کسانوں کا بھی خیال رکھا جائے تاکہ وہ لوگ بھی ترقی کریں اور رعیتو بازار کے صارفین کو کم قیمت میں ترکاری اور میوہ جات فراہم کرسکیں۔اس کے علاوہ رعیتو بازار کے صارفین نے ارباب مجاز سے اپیل کی ہے کہ رعیتو بازار کے کسان جو اضافی قیمت طلب کرتے ہیں اُن کے خلاف سخت کاروائی کریں تاکہ دور دراز مقامات سے آئے غریب لوگوں کا نقصان نہ ہو۔ایک طرف ترکاریوں کی قیمت میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے اور دوسری جانب حکومت کی طرف سے غریب لوگوں کو کوئی راحت نہیں پہنچائی جارہی ہے۔ عوام نے حکومت سے سوال کیا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے روز بہ روز ترکاریوں کی قیمتوں میں اضافہ ہی اضافہ ہوتا جارہا ہے؟ عوام نے نئی تشکیل شدہ ریاست تلنگانہ کی حکومت سے گذارش کی ہے کہ اس مسئلہ کو جلد از جلد حل کرے۔تاکہ لوگوں کو ہورہی تکالیف سے راحت ہوسکے۔