حیدرآباد۔/22جولائی، ( سیاست نیوز) رمضان المبارک کے دوران خصوصی انتظامات کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت نے جو وعدے کئے تھے وہ محض زبانی ثابت ہوئے جبکہ دارالحکومت حیدرآباد میں عوام کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تلگودیشم پارٹی کے قائد محمد فیروز خاں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ برقی اور پانی کی مناسب سربراہی کے علاوہ مساجد اور عید گاہوں کے اطراف صحت و صفائی کے انتظامات کے وعدے کئے گئے لیکن آج تک بھی برقی اور آبرسانی کے مسائل برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ابھی بھی عین افطار اور سحر کے موقع پر برقی سربراہی منقطع کی جارہی ہے جس سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شام 6تاصبح6بجے تک برقی سربراہی جاری رکھنے کا حکومت نے اعلان کیا تھا لیکن شام کے اوقات میں کئی علاقے تاریکی میں نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کو افطار
اور تراویح کے موقع پر برقی کٹوتی کے سبب کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں تیقنات تو دیئے لیکن ان پر عمل آوری کیلئے کوئی نگرانکار نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ چیف منسٹر خود پرانے شہر کا دورہ کرتے اور مسائل سے واقفیت حاصل کرتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ابھی تک شہر کیلئے کسی انچارج وزیر کا تقرر نہیں کیا ہے اور ڈپٹی چیف منسٹر عہدیداروں پر اثر انداز ہونے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ فیروز خاں نے کہا کہ مکہ مسجد اور شاہی مسجد میں رمضان کے انتظامات ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کے علاقوں میں صفائی کے انتظامات ناقص ہیں اور مساجد کے اطراف جگہ جگہ کچرے کے انبار دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مساجد کی مرمت اور آہک پاشی کیلئے جو رقم مختص کی ہے وہ آج تک متعلقہ مساجد کو جاری نہیں کی گئی۔ حکومت نے ضلع کلکٹرس کو رقم جاری کی لیکن کلکٹرس کی جانب سے مستحق مساجد اور عیدگاہوں کیلئے فنڈز جاری نہیں کئے گئے۔ فیروز خاں نے کہا کہ شہر میں مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی جماعت اور اس کے نمائندے ان مسائل پر توجہ دینے میں ناکام ہیں یا پھر وہ جان بوجھ کر اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں کیونکہ انہیں برسراقتدار پارٹی سے اپنے مفادات کی تکمیل عزیز ہے۔