حیدرآباد ۔ 16 جون ۔ ( سیاست نیوز)ریاست تلنگانہ کی حکومت نے جاریہ ماہ کے اختتام سے شروع ہونے والے مقدس ماہ رمضان المبارک کے سلسلہ میں نہ صرف شہر حیدرآباد بلکہ تلنگانہ کے تمام اضلاع میں مسلم روزہ داروں کیلئے تمام تر سہولتیں فراہم کرنے کیلئے وسیع تر انتظامات کرنے کی چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے چیف سکریٹری مسٹر راجیو شرما کو ضروری ہدایات دیں اور بتایا جاتا ہے کہ اضلاع میں مساجد کی آہک پاشی اور رنگ و روغن وغیرہ کیلئے (5)کروڑ روپئے جاری کرنے سے بھی اتفاق کیا ہے ۔ آج یہاں تلنگانہ سکریٹریٹ میں ماہ رمضان المبارک کے سلسلہ میں ضروری انتظامات کا جائزہ لینے و موثر اقدامات کرنے کیلئے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی صدارت میں اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا گیا تھا ۔ اس اجلاس میں ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر محمود علی ، وزیر نشہ بندی و آبکاری مسٹر پدما راؤ ، ارکان پارلیمان مسرس ایم اے خان ( کانگریس ) ، ڈاکٹر کے کیشو راؤ ( ٹی آر ایس ) میئر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن مسٹر ماجد حسین ، رکن قانون ساز کونسل تلگودیشم پارٹی مسٹر محمد سلیم ، رکن اسمبلی ٹی آر ایس شکیل عامر ، دونوں شہروں کے ارکان اسمبلی و ارکان کونسل ، صدرنشین اقلیتی کمیشن مسٹر عابد رسول خان ، چیف سکریٹری راجیو شرما، ڈائرکٹر جنرل آف پولیس مسٹر انوراگ شرما ، کمشنر بلدیہ حیدرآباد مسٹر سومیش کمار ، اسپیشل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود مسٹر سید عمر جلیل کے علاوہ محکمہ جات برقی ، بلدیہ ، حیدرآباد میٹرو واٹر سپلائی سیوریج بورڈ ، وقف بورڈ کے علاوہ دیگر محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیدار شریک تھے ۔ باوثوق سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ اجلاس کے دوران مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے چیف سکریٹری کو اس بات کی ہدایات دی کے وہ تمام ضلع کلکٹروں و سپرنٹنڈنٹس آف پولیس سے ضلع سطح پر تمام متعلقہ محکمہ جات کے ساتھ اجلاس طلب کرکے ماہ رمضان المبارک کے سلسلہ میں ضروری انتظامات کے لئے موثر اقدامات کرنے کی ہدایات دیں۔ اس موقعہ پر عوامی منتخبہ نمائندوں کی مختلف نمائندگیوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے چیف منسٹر نے حیدرآباد میں بلدی مسائل کا جائزہ لینے اور ان مسائل کی عاجلانہ یکسوئی کیلئے حکمت عملی کو قطعیت دینے بلدی عہدیداروں کے ساتھ بھی بہت جلد علحدہ اجلاس طلب کرنے کا تیقن دیا ۔
اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران شہر حیدرآباد اور اضلاع کی تمام مساجد کو پانی کی موثر سربراہی ، بلاوقفہ برقی سربراہی صحت و صفائی کے موثر انتظامات صبح و شام مساجد کے پاس سے کچرے کی صفائی کو یقینی بننے کے علاوہ ماہ رمضان کے دوران شہر حیدرآباد و اضلاع میں رات دیر گئے تک بازار میںدوکانیں کھلی رکھنے کی اجازت دینے کے ساتھ ساتھ پولیس ہراسانیوں کا تدارک کرنے کیلئے اقدامات کرنے کی چیف منسٹر سے عوامی منتخبہ نمائندوں نے موثر نمائندگی کی جس پر مسٹر چندرشیکھر راؤ نے فی الفور اپنے مثبت ردعمل کااظہار کرتے ہوئے متعلقہ عہدیداروں کو اس سلسلہ میں اقدامات کرنے کی ضروری ہدایات دیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عوامی منتخبہ نمائندوں کی جانب سے پیش کئے جانے والے مسائل پر بھی اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے کہا کہ ازخود وہ شہر حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر کا عوامی نمائندوں کے ساتھ اچانک دورہ کرکے ان کے مسائل کا جائزہ لینے کیلئے بھی علحدہ اجلاس طلب کرنے کا چیف منسٹر نے واضح تیقن دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ عوامی نمائندوں کی جانب سے شہر میں درپیش برقی کے مسئلہ پر کی گئی نمائندگی پر چیف منسٹر نے برقی کے درپیش مسئلہ سے اصولی طورپر اتفاق کیااور کہا کہ ممکنہ حد تک ماہ رمضان المبارک میں برقی کی موثر سربراہی کیلئے اقدامات کئے جائیں گے جبکہ تلنگانہ ریاست کیلئے برقی کا سنگین مسئلہ درپیش ہے اور ساتھ ہی ساتھ دیگر ریاستوں سے بھی برقی کی سربراہی کی ، فوری طورپر سربراہی کی گنجائش نہیں ہے اس کے باوجود نیشنل گرڈ سے زائد برقی کے حصول کے لئے کوشش جاری ہے ۔ اس کے باوجود تلنگانہ ریاست میں برقی کا یہ مسئلہ آئندہ تین سال تک جاری رہے گا اور ان تین سال کے دوران میں حکومت تلنگانہ میں ہی برقی پیداوار کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے اقدامات کرے گی ۔ اس موقعہ پر بتایا جاتا ہے کہ جیلوں میں محروس مسلمانوں کو نمازوں کی ادائیگی اور روزداروں کو افطار کی فراہمی کیلئے عوامی نمائندوں کے مطالبہ پر چیف منسٹر نے فوری طورپر ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت دی کہ وہ اس سلسلہ میں ڈائرکٹر جنرل آف محابس سے ربط پیدا کرکے اس سلسلہ میں ضروری اقدامات کریں ۔
اسی ذرائع کے مطابق بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے ریاستی سطح کے خطوط پر اضلاع کی سطح پر بھی سرکاری طورپر افطار پارٹیوں کا اہتمام کرنے ، تلنگانہ ریاست کیلئے علحدہ وقف بورڈ تشکیل دیئے جانے ، تلنگانہ میں پائی جانے والی دس ہزار مساجد کے پیش اماموں اور موذنوں کیلئے ماہ رمضان المبارک کے دوران خصوصی مالی امداد کی فراہمی کے مطالبہ سے اتفاق کیا اور ضروری اقدامات کرنے کا متعلقہ عہدیداروں کو ہدایات دیں۔ اسی دوران بتایا جاتا ہے کہ مسٹر محمد سلیم رکن قانون سازکونسل تلگودیشم نے چیف منسٹر سے شہر میں برقی کے درپیش مسئلہ کی یکسوئی کرتے ہوئے ماہ رمضان المبارک میں برقی کی موثر سربراہی کو یقینی بنانے اور مساجد کو ٹینکروں سے پانی سربراہی کرنے ، سلم علاقوں میں بھی پانی و صحت و صفائی کے اقدامات کرنے کے علاوہ رات دیر گئے تک بازاریں کھلے رکھنے کیلئے اجازت دینے کا مطالبہ کیا اس کے علاوہ وقف بورڈ سے پیش اماموں و موذنوں کیلئے اس ماہ میں مناسب مالی امداد فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا۔ مسٹر عابد رسول خان صدرنشین اقلیتی کمیشن نے مکہ مسجد کے زیرالتواء کاموں کی عاجلانہ تکمیل کا مطالبہ کیا جس پر چیف منسٹر نے مسٹر عمر جلیل کو ضروری ہدایات دیں ۔ مسٹر شکیل عامر نے اضلاع کیلئے رقم جاری کرنے اور ٹریفک مسائل کو حل کرنے کی جانب سے چیف منسٹر کی توجہ مبذول کروائی ۔ اس کے علاوہ بتایا جاتا ہے کہ حیدرآباد پارلیمانی حلقہ سے منتخبہ عوامی نمائندوں نے باغ عامہ کی شاہی مسجد سے متصل عمارت میں ایک اورینٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم ہے اس عمارت کو فوری طورپر مسجد کے حوالے کردینے کی خواہش کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا اور عمارت کو مسجد کے حوالہ کرنے کیلئے ضروری اقدامات کرنے کی متعلقہ عہدیداروں کو سخت ہدایات دیں۔