مساجد کے قریب صاف صفائی ، برقی ، آبرسانی اور دیگر سہولیات کا انتظام ،رکن اسمبلی چنتل رامچندر ریڈی کا بیان
حیدرآباد ۔ 17 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : آپسی اتحاد کو قائم رکھنا ہر انسان کا فرض بنتا ہے ہندو مسلم آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں ۔ ہم کو اتحاد کے ساتھ رہنے کی اہم ضرورت ہے ۔ رمضان المبارک کی آمد ہے ہم کو اس ماہ میں آپسی اتحاد کا ثبوت دینا ہوگا اور مساجد کے پاس صفائی کے علاوہ برقی ، آبرسانی اور دوسری ضروریات وغیرہ کا خاص انتظام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار رکن اسمبلی خیریت آباد مسٹر چنتل رامچندر ریڈی نے اخباری نمائندوں کو مخاطب کرتے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ نماز تراویح کے لیے خاص طور پر حافظ صاحب کو مقرر کیا جاتا ہے ۔ ان کو حکومت کی جانب سے دس ہزار روپئے دینا چاہئے ۔ میں حکومت سے کہتا ہوں کہ دس ہزار روپئے دیں ۔ اس کے علاوہ مساجد اور عیدگاہوں کو رنگ وروغن کرنے کے لیے ہر ڈسٹرکٹ کے لیے 50 لاکھ روپئے منظور کریں جو کلکٹر کے تحت ڈسٹرکٹ کے مساجد عیدگاہوں کو رنگ و روغن برقی آبرسانی کے علاوہ دوسرے ترقیاتی کام انجام دئیے جاسکے ۔ مسٹر چنتل رامچندر ریڈی نے کہا کہ خیریت آباد حلقہ میں 62 مساجد ہیں میں یہاں خصوصی توجہ دے رہا ہوں ۔ اور اس کے علاوہ سارے تلنگانہ میں موجود مساجد عیدگاہوں کے لیے بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپس میں بھائی چارگی قائم رکھیں اور ایک دوسرے کے عید و تہوار مل جلکر منائیں ۔ بی جے پی مسلمانوں کے ساتھ ہے اور مسلمانوں کی ترقی کے لیے کمر بستہ ہو کر کام کرے گی ۔ میں تمام شہریان حیدرآباد سے گذارش کرتا ہوں کہ حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھیں ۔ چاہے گنیش تہوار ہو یا بونال ، رمضان ہو یا بقر عید ۔ ان تمام عید اور تہوار کو پرامن طور پر منانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بنائیں اور رمضان المبارک کے موقع پر ہر مسجد کے پاس ایک ٹرانسفارمر کا انتظام کریں جو موبائیل ہو جب ضرورت ہو اس کا استعمال کرسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ نماز کے وقت ، افطار کے وقت کا احترام کریں اور ہر ڈسٹرکٹ میں افطار پارٹی کریں ۔ میں ریاستی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ میرے تجاویز پر غور کریں اور اس پر عمل کریں جن قابل ذکر ہے ۔ حافظ صاحب کو دس ہزار روپئے ، ٹرانسفارمر ، پانی اور صفائی کے علاوہ ہر ضلع کے کے لیے 50 لاکھ روپئے دیں اس موقع پر خصوصی نائب صدر میناریٹی مورچہ مسٹر یس لائق علی ، مسٹر عادل علی، مسٹر آدم علی کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔۔