رعیتو بازاروں کے قریب پارکنگ مافیا کی سرگرمیاں عروج پر

غیر مجاز افراد کی جانب سے من مانی فیس کی وصولی ، محکمہ بلدیہ و پولیس کی چشم پوشی لمحہ فکر
حیدرآباد۔19جون(سیاست نیوز) حکومت کی پارکنگ پالیسی کو شہر میں موجود رعیتو بازاروں پر عائد کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ رعیتوبازاروں کے پاس موجود پارکنگ کیلئے من مانی پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہے اور پارکنگ فیس وصول کرنے والوںکا کہناہے کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے شاپنگ مالس اور دیگر مقامات کیلئے جاری کردہ احکام کا اطلاق رعیتو بازاروں پر نہیں ہوتا کیونکہ رعیتو بازارمحکمہ زراعت کے تحت آتے ہیں اور اس محکمہ کی جانب سے پارکنگ کی جگہ کا تعین کرتے ہوئے پارکنگ فیس وصول کرنے کی اجازت فراہم کی گئی ہے جبکہ محکمہ کا کہناہے کہ بلدی قوانین کے مطابق یہ اجازت فراہم کی گئی تھی اور اب جبکہ حکومت محکمہ بلدی نظم و نسق کی جانب سے پارکنگ پالیسی جاری کرتے ہوئے شہر ی علاقو ںمیں مفت پارکنگ کا جو اعلان کیا ہے اس کے بعد محکمہ زراعت کو بھی شہری انتظامیہ کے احکام کو ماننا پڑتا ہے ۔ شہر کے رعیتو بازاروں میں وصول کی جانے والی پارکنگ فیس کے متعلق وصول کنندگان کا دعوی ہے کہ اس میں کافی لوگوں کا حصہ ہے اسی لئے وہ یہ سلسلہ فوری ترک نہیں کرسکتے جبکہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے یہ کہا جا رہاہے کہ اگر کہیں بھی پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہے تو ایسی صورت میں راست جی ایچ ایم سی یاپولیس کو شکایات روانہ کریں اور ان محکموں کی جانب سے سخت کاروائی کی جائے گی ۔ان اعلانات کے باوجود بھی شہر حیدرآباد کے رعیتو بازاروں کے قریب پارکنگ مافیا کی سرگرمیاں عروج پر ہیں لیکن ان پر کنٹرول کرنے کیلئے کوئی اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں اور غیر مجاز افراد کی جانب سے پارکنگ فیس کی وصولی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ حکومت تلنگانہ کی پارکنگ پالیسی کے اعلان کے بعد ان احکامات کو نافذ کرنا حکومت کے محکمہ جات کی ذمہ داری ہے لیکن حکومت کے محکمہ جات کی جانب سے یہ کہا جانا کہ اگر کہیں پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہے تو شکایت کریں محکمہ جات کی نااہلی کی دلیل ہے کیونکہ شکایت محکمہ پولیس اور بلدیہ سے کرنے کیلئے کہا جا رہاہے اور دونوں ہی محکمہ جات کی جانب سے روزانہ ہر سڑک پر ان کا عملہ گشت کرتا ہے اور شہر میں جاری سرگرمیوں کے متعلق دونوں ہی محکمہ جات کے عملہ کو مکمل واقفیت حاصل ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود کاروائی کیلئے عوامی شکایات پر انحصار کرنا عوام کو تکلیف میں مبتلاء کرنے کے مترادف ہے ۔ محکمہ پولیس اور بلدیہ انہیں اطلاع موصول ہونے پر غیر مجاز پارکنگ فیس وصول کرنے والوں کے خلاف از خود کاروائی کرسکتے ہیںاور اگر از خود کاروائی کرتے ہوئے اقدامات کئے جانے لگیں تو عوام میں بھی شکایات کے متعلق اعتماد پیدا ہوگا اور عوام بھی غیر مجاز پارکنگ فیس کی وصولی پر شکایات کے لئے آگے آنے لگیں گے۔ حکومت تلنگانہ کی پارکنگ پالیسی کی مختلف گوشوں سے سراہنا کی جا رہی ہے لیکن بعض گنجان آبادی اور مصروف علاقو ںمیں پارکنگ مافیا کی سرگرمیوں کی من مانی پر عوام کی جانب سے شدید تنقید بھی جانے لگی ہے۔