ایمسٹرڈم۔ 17؍اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام)۔ زانولی اور ان کی والدہ نے سنہ 45-1943ء کے دوران ایک یہودی بچے کو نازیوں سے پچایا تھا اور اسے پناہ دی تھی۔ ہالینڈ کے ایک شخص نے دوسری جنگ عظیم میں ایک یہودی بچے کو بچانے کیلئے ملنے والے اسرائیلی اعزاز کو واپس کر دیا ہے۔ 91 سالہ ہینک زانولی نے ہیگ میں اسرائیلی سفارتخانے کے نام تحریر کردہ اپنے خط میں لکھا کہ اب وہ ’اس اعزاز کو نہیں رکھ سکتے۔‘ اسرائیلی سفارتخانے نے مسٹر زانولی کے اس عمل پر کسی قسم کے تبصرے سے انکار کر دیا ہے۔ زانولی اور ان کی والدہ کو اسرائیل نے سنہ 2011 میں ’رائٹیئس آمانگ دا نیشنز‘ یعنی اقوام میں خداترس کے اعزاز سے نوازا تھا
کیونکہ انھوں نے سنہ 45-1943 کے دوران ایک یہودی بچے کو نازیوں سے پچایا تھا اور اسے پناہ دی تھی۔ یہ اعزاز ان غیر یہودی افراد کو دیا جاتا ہے جنھوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ہولوکاسٹ کے دوران یہودیوں کو بچایا تھا۔ بہرحال اسرائیل کے اخبار ’ہاآرٹیز‘ نے زانولی کا یہ خط شائع کیا ہے جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے دئے جانے والے اس اعزاز کو ان حالات میں رکھنا میرے خاندان اور ان کی چوتھی نسل کے لئے بے عزتی ہے جنھوں نے غزہ میں اپنے کم از کم 6 رشتہ دار گنوا دیئے ہیں۔