سیاست ایم ڈی ایف کے توسط سے ماہانہ اوسط 30 شادیاں
غیر ضروری مصارف سے بچنے پر والدین میں مسرت کی لہر
حیدرآباد ۔ 9 ۔ دسمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : مسلم معاشرہ میں لڑکیوں کی شادیاں ایک بہت بڑا مسئلہ بن گئی ہیں حالانکہ دین اسلام میں نکاح کو آسان اور زنا کو مشکل بنانے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ لڑکیوں کی شادیاں جہاں مشکل بن گئی ہیں وہیں لڑکوں کی شادیوں کے معاملہ میں بھی والدین کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ لڑکیوں کی شادیاں ضعیف والدین کے لیے اس لیے مسئلہ بن رہی ہیں کیوں کہ لڑکے والے اکثر جوڑے گھوڑے کی رقم کا مطالبہ کرنے کے ساتھ ساتھ شادی کے دن مہمانوں کی پر تکلف کھانوں سے تواضع کرنے پر زور دیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اب تو شہر کے فیشن ایبل علاقوں کے مہنگے ترین شادی خانے بک کرانے کے مطالبات بھی کئے جارہے ہیں ۔ حال ہی میں ایک رشتہ بات چیت کے ابتدائی مرحلے میں اس لیے توڑ دیا گیا کیوں کہ لڑکے والوں نے نئے شہر کے اس شادی خانہ میں شادی کی خواہش کی جس کا کرایہ ڈھائی لاکھ روپئے ہے ۔ دوسری طرف لڑکوں کی شادیوں میں رکاوٹیں اس لیے پیدا ہورہی ہیں کیوں کہ اکثر و بیشتر لڑکی والوں کو ایسا لڑکا چاہئے جس کا گھر ذاتی ہو کھاتے پیتے گھرانے سے اس کا تعلق ہو اس طرح کے لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اگر لڑکا تعلیم یافتہ یا محنتی ہو تو وہ ایک نہیں کئی مکانات خرید سکتا ہے اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ ذاتی گھر والے لڑکے سے کسی کی بیٹی کی شادی بھی ہوجائے تو انہیں ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے کہ گھر فروخت کرنے ، قرض لینے کی نوبت آجائے تو ان حالات میں وہ کیا کریں گے ۔ بہر حال ہم نے اس مسئلہ پر کچھ لوگوں سے بات کی ۔ یاقوت پورہ کے ساکن سید احمد سلیم نے جو تاجر پیشہ ہیں بتایا کہ انہوں نے مشاطاؤں کے دفتروں کے چکر لگانے کی بجائے سیاست کے دفتر پیامات ایم ڈی ایف سے رجوع ہونے کو ترجیح دی ۔ انہیں اپنے ایر کرافٹ انجینئر لڑکے لیے لڑکی کی تلاش تھی ۔ چنانچہ سیاست ایم ڈی ایف کے دفتر میں انہیں رجسٹریشن کے بعد لڑکیوں کے بائیو ڈاٹاز دکھائے گئے جن میں تین لڑکیوں کے بائیو ڈاٹاز پسند آئے چنانچہ ان میں سے ایک لڑکی کے گھر پر فون کرنے پر پتہ چلا کہ سیاست کے ایم ڈی ایف کے ذریعہ اس لڑکی کا رشتہ طئے پایا اور شادی ہوگئی ہے ۔ دوسری لڑکی کے گھر پر فون کیا گیا تو وہاں سے کوئی جواب نہیں آیا اور تیسری لڑکی کے گھر والوں سے بات ہوئی اس طرح سیاست ایم ڈی ایف کے توسط سے صرف 15 یوم میں خیر خوبی کے ساتھ شادی انجام پائی ۔ سید احمد سلیم نے بتایا کہ ان کی بہو بی کام ہے ۔ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ سیاست نے ہمارے معاشرہ میں لڑکے لڑکیوں کی شادیوں کا بہت بڑا مسئلہ حل کردیا ہے ، ورنہ مشاطاؤں کے چکر میں لوگ ہزاروں روپئے اور وقت ضائع کردیتے ہیں ۔ واضح رہے کہ سیاست ایم ڈی ایف کے توسط سے ماہانہ اوسطاً 30 شادیاں طئے پاتی ہیں ۔ جن میں ایس ایس سی ، انٹر ، گریجویٹ ، پوسٹ گریجویشن ، پیشہ ورانہ کورس جیسے ڈاکٹرس ایم بی بی ایس و بی یو ایم ایس ، انجینئرس ، ایم بی اے ، ایم سی اے ، لڑکے لڑکیاں شامل ہیں ۔ عالم ، فاضل ، حفاظ ، قاری ( لڑکے لڑکیوں ) کے بھی بے شمار رشتے طئے پاچکے ہیں ۔ جب کہ عقد ثانی کے رشتے بھی طئے پا رہے ہیں ۔ ممتاز عالم مولانا انعام الحسن کے مطابق شادیوں میں بے جا رسم و رواج کے نتیجہ میں شادیاں مشکل ہوتی جارہی ہیں ۔ ایسے میں دوبدو جیسے پروگرامس ملت کے لیے نعمت غیر مترقبہ ہیں ۔ ایک اور لڑکی کے والد نے اپنا نام بتائے بنا کہا کہ وہ چند دنوں سے سیاست ایم ڈی ایف آتے رہے ہیں ، امید ہے کہ ان کی بیٹی کے لیے کوئی نہ کوئی اچھا رشتہ مل جائے گا ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ لڑکے والوں کو اپنے بچوں کی شادی کے وقت اپنی بیٹیوں کی شادی کو ذہن میں ضرور رکھنا چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں اپنے بیٹے کی شادی میں لڑکی کی شرافت اور خاندان کو پیش نظر رکھا ، جہیز جوڑے گھوڑے کو کوئی اہمیت نہیں دی ۔ آج ان کے بیٹا اور بہو دونوں بہت خوش ہیں ۔۔