حیدرآباد۔ 19 جنوری (سیاست نیوز) مکہ معظمہ میں واقع حیدرآبادی رباط میں قیام کے مسئلہ کی یکسوئی کیلئے تلنگانہ حکومت نے مساعی کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے، اس کے علاوہ عازمین حج کے طیاروں کی شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ کے بجائے بیگم پیٹ ایرپورٹ سے روانگی کو یقینی بنانے کیلئے ریاستی حکومت کے ذریعہ وزارت خارجہ کو نمائندگی کی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ اسپیشل سیکریٹری اقلیتی بہبود جناب سید عمر جلیل نے حیدرآبادی رباط کے مسئلہ کی یکسوئی کیلئے اوقاف کمیٹی نظام ٹرسٹ اور ناظر رباط کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوں نے سابق میں اس مسئلہ کی یکسوئی کی کوشش کی تھی تاہم کوئی پیشرفت نہ ہوسکی۔ گزشتہ دو برسوں سے تلنگانہ کے عازمین رباط میں قیام کی سہولت سے محروم ہیں۔ اوقاف کمیٹی اور ناظر رباط عازمین کے انتخاب کے سلسلے میں اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں۔ جناب عمر جلیل اس بات کی کوشش کریں گے کہ کسی طرح کوئی قابل قبول حل نکالا جائے ۔رباط میں قیام کی صورت میں عازمین کو بھاری رقم کی بچت ہوتی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمود علی اور اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور کے ساتھ توقع ہے کہ آئندہ ہفتہ اجلاس طلب کیا جائے گا۔ اسی طرح عازمین حج کے طیاروں کی بیگم پیٹ ایرپورٹ سے روانگی کی اجازت حاصل کرنے کیلئے تلنگانہ حکومت کے ذریعہ مرکزی حکومت سے نمائندگی کی جائے گی۔ چارٹرڈ فلائٹ کیلئے بیگم پیٹ ایرپورٹ کا استعمال کیا جاتا ہے اور عازمین حج کی تمام فلائیٹس چارٹرڈ ہوتی ہیں۔ بیگم پیٹ ایرپورٹ سے روانگی اور واپسی کی صورت میں نہ صرف عازمین بلکہ ان کے رشتہ داروں کو بھی سہولت ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق میں اس سلسلے میں فائل حکومت کو روانہ کی گئی تھی جو زیرالتواء ہے۔ اسی فائل کی بنیاد پر دوبارہ مرکزی حکومت سے نمائندگی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔