حیدرآباد ۔11 ۔مئی (سیاست نیوز) مکہ مکرمہ کی حیدرآبادی رباط میں عازمین حج کے قیام کے مسئلہ کی خوشگوار یکسوئی کی راہ ہموار ہوچکی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمود علی نے اس مسئلہ پر کونسل جنرل جدہ ایس ایم مبارک اور ناظر رباط حسین محمد شریف سے بات چیت کی۔ اس ملاقات میں رباط میں قیام کے مسئلہ کی یکسوئی کرلی گئی۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے مطابق 600 عازمین کے قیام کیلئے انتظامات کئے جائیں گے اور قرعہ اندازی کے ذریعہ ان کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ 22 یا 23 مئی کو حج ہاؤز حیدرآباد میں قرعہ اندازی عمل میں آئے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے جو سعودی عرب کے دورہ پر ہیں، رباط میں قیام کے مسئلہ کی یکسوئی میں خصوصی دلچسپی دکھائی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اوقاف کمیٹی نظام اور ناظر رباط میں عازمین حج کے مفاد میں مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ دونوں کے تعاون سے قرعہ اندازی کے ذریعہ 600 عازمین کا انتخاب کیا جائے گا ، جن کے قیام کیلئے ناظر رباط انتظامات کریں گے۔ اگرچہ موجودہ عمارت میں صرف 250 عازمین کے قیام کی گنجائش موجود ہے لیکن ناظر رباط حسین محمد شریف نے دوسری عمارتوں کو حاصل کرتے ہوئے 600 کے قیام کے انتظامات کا تیقن دیا ہے۔ کونسل جنرل جدہ مبارک اور ناظر رباط حسین محمد شریف قرعہ اندازی کے موقع پر موجود رہیں گے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں دورہ حیدرآباد کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ اس تعطل کی یکسوئی کی کوششیں کامیاب ہوئی ہیں اور 600 عازمین حج کے قیام کے بعد سنٹرل حج کمیٹی سے انہیں مناسب رقم واپس ملے گی۔ اسی دوران محکمہ اقلیتی بہبود کے اسپیشل سکریٹری سید عمر جلیل نے بتایا کہ عازمین حج کے قیام کے سلسلہ میں اوقاف کمیٹی نظام نے مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ حج کمیٹی کو عزیزیہ زمرہ میں جو درخواستیں وصول ہوئیں، ان میں سے قرعہ اندازی کے ذریعہ 600 عازمین کا انتخاب کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ سابق ریاست حیدرآباد کے تحت آنے والے اضلاع کے عازمین کو قرعہ اندازی میں شامل کیا جائے گا ۔ کونسل جنرل جدہ میں قرعہ اندازی کے انتظامات کے سلسلہ میں سنٹرل حج کمیٹی کو مکتوب روانہ کیا ہے اور اس کی ایک نقل محکمہ اقلیتی بہبود تلنگانہ کو روانہ کی گئی۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ حکومت تلنگانہ اور خاص طور پر ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی خصوصی دلچسپی کے باعث دو سال کے وقفہ کے بعد رباط میں عازمین حج کے قیام کی راہ ہموار ہوئی ہیں۔ حکومت نے اس مسئلہ کی خوشگوار یکسوئی کیلئے اوقاف کمیٹی نظام اور ناظر رباط سے بات چیت کی جو کامیاب رہی۔