نئی دہلی۔ 16 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی آج 56 دن بعد گھر واپس ہوئے۔ لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی بدترین ہزیمت کے بعد خوداحتسابی کے لئے وہ ’’تنہائی‘‘ میں چلے گئے تھے۔ ان کی پارٹی میں ذمہ داریوں سے دُوری اختیار کرنے پر کئی سوالات اٹھ رہے تھے۔ پارٹی کے مضبوط لیڈر کی تلاش کرنے والوں کو بھی راہول گاندھی کی غیرحاضری سے مایوس ہوئی تھی۔ 44 سالہ راہول گاندھی آج صبح 11:15 بجے بینکاک سے تھائی ایرویز طیارہ سے واپس ہوئے۔ ان کی واپسی کے ساتھ ہی کئی دنوں سے ان قیاس آرائیوں اور چہ میہ گوئیاں بھی ختم ہوگئی ہیں۔ پارٹی ورکرس نے جشن منایا۔ ان میں خوشی کی لہر پیدا ہوگئی۔ رہائش گاہ کے باہر سینکڑوں پارٹی ورکرس نے آتش بازی بھی کی۔ گہرے سیاہ شرٹ میں ملبوس اپنی گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھے ہوئے راہول کے ہمراہ ان کے سکیورٹی جوان بھی تھے۔ انہوں نے ایرپورٹ پر منتظر اخباری نمائندوں سے بات چیت کی اور پھر اپنے گھر روانہ ہوگئے۔
راہول گاندھی اُس وقت واپس ہوئے جب ان کی پارٹی نے اراضی بل مسئلہ پر کسانوں کی ریالی نکالنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اس ریالی سے خطاب کریں گے۔ وہ جس طیارہ سے آرہے تھے، اس کی لینڈنگ صبح 10 بجکر 35 منٹ پر ہونے والی تھی لیکن طیارہ 40 منٹ تاخیر سے پہونچا۔ آمد کے فوری بعد وہ اپنی 12 تغلق لین رہائش گاہ روانہ ہوئے جہاں ان کی والدہ اور بہن پرینکا وڈرا ان کا انتظار کررہی تھیں۔ راہول 23 فروری کو شروع ہوئے بجٹ سیشن سے قبل ہی خاموشی سے چلے گئے تھے، لیکن اب بھی یہ معلوم نہیں ہوا کہ انہوں نے اتنے دن کہاں گزارے۔ کانگریس پارٹی نے اُس وقت کہا تھا کہ اس نے صدر کانگریس سونیا گاندھی سے خواہش کی تھی کہ وہ پارٹی کے مستقبل کے لائحہ عمل کو واضح کرے۔ اپنی سیاسی زندگی سے عارضی کنارہ کشی کے اعلان کے بعد سے یہ قیاس آرائیاں ہورہی تھیں کہ وہ پارٹی کے کام کاج سے ناراض ہیں
اور انہیں پارٹی کے لئے آزادانہ طور پر کام کرنے نہیں دیا جارہا ہے۔ راہول گاندھی کانگریس کے اُن سینئر قائدین سے ملاقاتوں کا منصوبہ رکھتے ہیں جن کو اُن کی قیادت کے بارے میںذہنی تحفظات ہیں۔ انہوں نے کئی عوامی مصروفیات کے دوران اس کا واضح اشارہ دیا۔ پارٹی کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ وہ کانگریس کے اپنے مخالف قائدین سے ملاقات کرکے ملاقات کرکے اپنے نظریہ اور حکمت عملی سے واقف کروائیں گے، تاہم پارٹی نے ان قائدین کے نام اور مقامات کا انکشاف کرنے سے انکار کردیا۔ جہاں کا دورہ کرکے راہول گاندھی کرکے قائدین سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے چھٹیوں کے مقام کے بارے میں بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ وہ میانمار میں تھے۔ انہیں صدر کانگریس بنانے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے سرجے والا نے کہا کہ اس کا فیصلہ مجلس عاملہ کرے گی جس کا اجلاس عنقریب مقرر ہے۔