راہول نے تحقیر عدالت کی نوٹس پر تازہ جواب داخل کیا

نئی دہلی 29 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس راہول گاندھی نے سپریم کورٹ میں آج تازہ حلفنامہ داخل کیا جبکہ اُنھیں رافیل کیس کے فیصلے کے بارے میں اُن کے ریمارکس پر تحقیر عدالت کی نوٹس جاری کی گئی تھی۔ راہول نے دوبارہ افسوس ظاہر کیاکہ اُنھوں نے ’چوکیدار چور ہے‘ کے ریمارکس کو فاضل عدالت سے منسوب کردیا۔ راہول نے بی جے پی لیڈر میناکشی لیکھی کی داخل کردہ تحقیر کی عرضی کو خارج کرنے کی استدعا کے ساتھ کہاکہ یہ عدالتی عمل کا غلط استعمال ہے۔ اپنے جوابی حلفنامہ میں راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کے بارے میں رافیل فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے ’چوکیدار چور ہے‘ کا ریمارک کرنے پر افسوس ظاہر کیا۔اُنھوں نے اپنے حلفنامہ میں یہ بھی کہاکہ سب پر واضح ہے کہ کوئی عدالت ایسا ریمارک نہیں کرے گی اور اِس لئے یہ باتیں (جن کے لئے مَیں افسوس ظاہر کرتا ہوں) عدالتی حکمنامے سے منسوب کرنے اور سیاسی نعرے سے جوڑنے کی لغزش ہوئی ہے۔2014 کے بعدبلاشبہ کانگریس کی مقبولیت کا گراف نیچے آگیا تھا اور لیڈروں کے حوصلے بھی کسی قدر پست نظر آنے لگے تھے۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ شکست سے جہاں دلوں میں مایوسی پیدا ہوجاتی ہے وہیں فتح سے حوصلوں کو جلا ملتی ہے۔ ایسے ناگفتہ حالات میں، پارٹی کو ’مین اسٹریم‘کی سیاست میں لانے کا تمام ترسہرا راہل گاندھی کے سرجاتا ہے۔ اس شکست سے انہوں نے نہ صرف بہت کچھ سیکھا بلکہ اس کے اسباب کا گہرائی سے تجزیہ کرکے آگے کا لائحہ عمل بھی تیار کیا۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ ایسے نازک وقت میں ان کی جگہ اگر دوسرا لیڈر ہوتا تو شاید بددل ہوکر حوصلہ ہار دیتا لیکن صبروتحمل اور ملک کیلئے کچھ کر گزرنے کا جو جذبہ راہل گاندھی کو ورثہ میں ملا ہے۔ ناموافق حالات میں ان کے بہت کام کیا۔ انہوں نے نہ صرف وقت کا انتظار کیا بلکہ اپنی سوجھ بوجھ اور ذہانت سے اپنے لئے ایک نئی سیاسی راہ بھی نکالی۔آج جس ’نیائے اسکیم‘ نے قومی سیاست میں ہلچل مچارکھی ہے، اس کی منصوبہ سازی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس کیلئے ماہرین کی ایک ٹیم تیار کرنا، ٹیم کا اعدادوشمار کی بنیاد پر ایک مربوط خاکہ تیار کرنا اور پھر اسے لاگو کرنے کا لائحہ عمل تیار کرنا، یہ بتاتا ہے کہ دوسروں کی طرح راہل گاندھی نے گھر بیٹھ کر آرام نہیں کیا بلکہ ایک طرف جہاں وہ وزیراعظم نریندرمودی اور ان کی ٹیم کے دوسرے ساتھیوں کے حملے بھی برداشت کرتے رہے وہیں خاموشی کے ساتھ ملک کے غریب عوام کی بہتری کا ایک ایسا خواب بھی دیکھتے رہے کہ اگر وہ تعبیر آشنا ہوجائے تو پھر ملک سے نہ صرف غربت کا خاتمہ ہوسکتا ہے بلکہ ملک کی آبادی کے ایک بڑے حصہ کی ابتر زندگی میں بہتری بھی آسکتی ہے۔چنانچہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ 2019 کے آتے آتے مودی کے ہندتوا اور قوم پرستی کے ہتھیاروں کو کند کرنے کااگر صفحہ عوام کی فلاح وبہبود کی منصوبہ سازی کرکے وہ تیار کرچکے تھے۔ پہلے پنجاب اور کرناٹک اور بعد میں راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ جیسی ریاستوں میں کانگریس کو کامیابی سے ہمکنار کرواکر، انہوں نے نہ صرف اپنی سیاسی ذہانت کا احساس کرادیا تھا بلکہ یہ بھی باور کرا دیا تھا کہ اس بار پارلیمانی الیکشن میں مودی اور ان کی پارٹی کو ’واک اوور‘ نہیں ملنے والا کیونکہ کانگریس اب ایک چیلنج بن کر ان کی راہ میں آکھڑی ہوئی ہے۔ کیا یہ کوئی معمولی بات ہے کہ جولوگ کل تک ’کانگریس مکت بھارت‘ کا خواب دیکھ رہے تھے، کانگریس سے نمٹنے کیلئے اب تک کوئی کارگر اشو تلاش کرنے میں ناکام رہے ہیں، ایسے اہم موڑپر سرگرم سیاست میںپرینکا گاندھی کی آمد سونے پر سہاگہ کاکام کررہی ہے۔ ان کے سیاست میں آنے کی قیاس آرائیاں تو 2014کے پہلے سے ہورہی تھیں لیکن تب انہوںنے خود کو امیٹھی اور رائے بریل تک محدود رکھا تھا مگر اب وہ پوری طرح خود کو ملک وقوم کی خدمت کیلئے وقف کرچکی ہیں۔بی جے پی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ پرینکا کے تعلق سے لوگوں میں ایک خاص طرح کا لگاؤ اور محبت ہے۔ ان کی سادگی، ان کی بردباری، متانت اور ان کا لب ولہجہ لوگوں کو نہ صرف متاثر کرتا ہے بلکہ ان میں لوگوں کو اندراگاندھی کی جھلک بھی نظر آتی ہے اس لئے اگر وہ میدان سیاست میں کلی طورپر آگئیں تو ابھی تو ایک راہل گاندھی نے ہی ناطقہ بند کررکھا ہے، پھر ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ شاید اسی لئے پرینکا گاندھی کے عکس کو مجروح کرنے کی غرض سے، ان کے شوہر کے پیچھے ای ڈی کو لگادیا گیا۔ یہ پرینکا کیلئے ایک اگنی پریکشا تھی جس میں وہ کھری اتریں۔ لکھنؤ میں ان کا جو پہلا روڈ شو ہوا، اس نے یہ باور کرادیاکہ تمام تر منفی پروپیگنڈوں کے باوجود پرینکاکی عوامی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ ان کی اس محبت میں ایک طرح کی عقیدت بھی شامل ہے، یہ وہی عقیدت ہے جو عوام کے دلوں میں آنجہانی اندراگاندھی کیلئے اب بھی موجود ہے ۔ جیسا کہ اوپر آچکا ہے کہ مودی اور بی جے پی کو گھیرنے کی سیاسی منصوبہ بندی راہل گاندھی پہلے ہی کرچکے تھے، پرینکا کی آمد کے بعد یہ گھیرابندی کچھ اس قدر مضبوط ہوچکی ہے کہ بی جے پی اب بوکھلائی ہوئی ہے، اس کی سمجھ میں اب تک نہیں آرہا ہے کہ ان دونوں سے مقابلہ کیلئے وہ کونسی حکمت عملی اپنا ئے۔ ’اشو پراشو‘ اچھالے جارہے ہیں۔ آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریہ سازوں کی ٹیم دن رات پرینکا کی آندھی کو روکنے کی کوشش میں کوئی کارگرہتھیار تلاش کرنے میں مصروف نظر آتی ہے، یہاں تک کہ اسے سادھوی پرگیہ ٹھاکر جیسی بدنام زمانہ خاتون کو امیدوار بناناپڑگیا جس پر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث رہنے کا الزام ہے اور جو خرابی صحت کی بنیاد پر ضمانت پر ہے لیکن ان کایہ داؤ بھی الٹا پڑ گیا ہے ایک بڑا حلقہ اس کی مخالفت کررہا ہے لیکن ایسا کرکے بی جے پی قیادت جو غلطی کرچکی ہے اس کی تلافی نریندرمودی کو اس کا دفاع کرکے کرنی پڑرہی ہے اور یہ بھی کہنا پڑرہا ہے کہ ہندو دہشت گرد نہیں ہوسکتا اور یہ کہ ہندوؤں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کانگریس نے کی ۔