رانچی 7 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) قومی تحقیقاتی ایجنسی نے آج رانچی میں ایک شخص کی اطلاع پر 18 کارآمد بم ضبط کرلئے ہیں۔ اس شخص کو پٹنہ میں گذشتہ سال نریندر مودی کی ریلی کے موقع پر ہوئے بم دھماکوں کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ اس کی نشاندہی پر آج 18 کارآمد بم ضبط کرلئے گئے ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ رانچی واقعہ کے چار ملزمین بشمول حیدر علی عرف بلیک بیوٹی سے تفصیلی پوچھ تاچھ کی گئی تھی ۔ ان کا ممنوعہ تنظیموں جیسے سیمی اور انڈین مجاہدین سے تعلق بتایا گیا ہے ۔ اس پوچھ تاچھ اور تفتیش کے دوران رانچی گروپ کے کچھ اور ارکان کی بھی شناخت ہوئی ہے ۔
این آئی اے نے ادعا کیا ہے کہ 20 مئی کو چار افراد کی گرفتاری کے نتیجہ میں رانچی ماڈیول کی سازش کا پتہ چلا تھا تاکہ گذشتہ سال اکٹوبر میں نریندر مودی کو نشانہ بنایا جاسکے جبکہ وہ پٹنہ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرنے والے تھے ۔ یہاں ملنے والے سراغ کی بنیاد پر گذشتہ رات قومی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے دو افراد افتخار اور فیروز اسلم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی اور ان کی نشاندہی پر سیتھیو گاؤں کے قریب سے 18 کارآمد بم اور ڈیٹونیٹرس وغیرہ ضبط کئے گئے اور دھماکو مادوں کی جھارکھنڈ میں ہند پیڑھی سے بھی ضبطی عمل میں آئی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ بم اسی نوعیت کے ہیں جس طرح گذشتہ سال اکٹوبر میں رانچی میں استعمال کئے گئے تھے ۔ این آئی اے نے ادعا کیا کہ محروسین نے تحقیق کنندگان سے کہا تھا کہ وہ مودی کو نشانہ بنانا چاہتے تھے
اور انہوں نے پانچ مقامات اکبر پور ‘ کانپور ‘ وارناسی ( اتر پردیش ) دہلی اور پٹنہ میں اس کی عملا ریہرسل بھی کی تھی ۔ این آئی اے نے کہا کہ ان ملزمین کا کہنا تھا کہ مودی کی سکیوریٹی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے یہ بم پٹنہ ریلی میں نصب کئے تھے اور ایک بم ڈائس سے 100 میٹر کے فاصلے پر رکھا گیا تھا ۔ حیدر علی کے علاوہ این آئی اے نے مجیب اللہ ‘ نعمان انصاری اور ایک کم عمر لڑکے ( جس کا نام نہیں بتایا گیا ) سے پوچھ تاچھ کی تھی ۔ این آئی اے نے حیدر علی کے سوا دوسرے تین ملزمین کا پتہ بتانے پر پانچ لاکھ روپئے انعام کا اعلان کیا تھا ۔