اراضی حاصل کرنے سپریم کورٹ میںمرکز کی درخواست پر شدید ردعمل ، اخبارسامنا کا اداریہ
ممبئی ۔ 31جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) شیوسینا نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے مرکز کی بناوٹی دوڑ دھوپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرکز کو چاہیئے کہ وہ رام مندر مسئلہ کو کشمیر معاملہ کی طرح پیچیدہ نہ بنائیں ۔ کیونکہ کشمیر مسئلہ کو حل کرنے میں ہنوز انتظار کرنا پڑرہا ہے ۔ شیوسینا نے حیرت کا اظہار کیا کہ رام مندر کی تعمیر میں تاخیر کیلئے وزیراعظم نریندر مودی اور دیگر بی جے پی قائدین کو ذمہ دار قرار دینے کے بجائے راشٹریہ سیوک سنگھ اس کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے ججس کو نشانہ بنارہا ہے ۔ آخر سپریم کورٹ کا کیا قصور ہے جبکہ اس مسئلہ کو لیت و لعل میں ڈالنے کیلئے وزیراعظم اور بی جے پی قائدین ذمہ دار ہیں ، شیوسینا نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی کو رام مندر کی تعمیر میں رکاوٹ کھڑا کرنے کیلئے کانگریس پر انگلی اٹھانا بند کرنا چاہیئے ۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار’’ سامنا ‘‘ میں اداریہ لکھتے ہوئے یہ ردعمل ظاہر کیا گیا کہ ملک بھرمیں رام مندر کے مسئلہ پر بڑھتے دباؤ کا سامنا کرنے والی مودی حکومت نے منگل کے دن سپریم کورٹ سے کہا کہ وہ ایودھیا میں متنازعہ مقام کے اطراف و اکناف کی فاضل اراضی کو اس کے حوالے کردیں ، تاکہ وہ اس فاضل اراضی کو ہندو ٹرسٹ اور دیگر حقیقی مالکین کے حوالے کرسکے ۔مرکز کے اس اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے ادھو ٹھاکرے زیر قیادت پارٹی نے کہا کہ اگریہی حل تھا تو آخر بی جے پی زیر قیادت حکومت گذشتہ چار سال کے دوران اس کا خیال کیوں نہیں آیا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی لوک سبھا انتخابات کو ذہن میں رکھ کر اس تجویز کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے جبکہ ایسا نہیں ہوگا ۔ اس ملک میں جو بھی فیصلہ کیا جائے گا رام مندر کی تعمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوگا ۔ شیوسینا بی جے پی زیرقیادت مرکزی اور مہاراشٹرا حکومتوں میں حلیف پارٹی ہے نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر سے قبل بی جے پی اراضی کے اصل مالکین کو غیر متنازعہ اراضی حوالے کرے گی تو یہ صورتحال مختلف ہوگی ۔ اس وقت مغل بادشاہ بابر کا کوئی جانشین نہیں ہے جو اس متنازعہ زمین پر اپنی ملکیت کا دعویٰ پیش کرسکے۔ یہ متنازعہ زمین صرف 0.313ایکڑ ہے ۔ متنازعہ زمین کے بارے میں دیگر کو اپنی درخواستیں داخل کرنے دیجئے ۔رام مندر کا کام غیر متنازعہ اراضی پر شروع کیا جاسکتا ہے ۔