۔29 اکٹوبر تک سربہ مہر لفافہ پیش کرنے حکومت کو سپریم کورٹ بنچ کی ہدایت
نئی دہلی ۔ 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے مرکز کو فرانس کے ساتھ رافیل معاملت پر فیصلہ سازی کے عمل کی تمام تفصیلات سربہ مہر لفافہ میں پیش کرنے کی آج ہدایت کی۔ تاہم یہ وضاحت بھی کی کہ وہ قیمت کے تعین اور تکنیکی تفصیلات حاصل کرنا نہیں چاہتا۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی زیرقیادت بنچ نے کہا کہ مرکز کو وہ کوئی رسمی نوٹس جاری نہیں کررہے ہیں کیونکہ دو مختلف وکلاء کی طرف سے دائر کردہ مفادعامہ کی دو درخواستوں میں عائد کردہ رشوت ستانی کے الزامات کے عوامل و تفصیلات پر انہوں نے غور نہیں کیا ہے۔ اس بنچ نے جس مںی جسٹس ایس کے کول اور جسٹس کے ایم جوزف بھی شامل تھے۔ مرکز سے کہا کہ یہ کیسا رہے گا کہ جب مرکز سے اس معاملت سے متعلق فیصلہ سازی کے عمل کی تفصیلات طلب کی جائیں۔ تاہم قیمت کے تعین اور تکنیکی تفصیلات طلب نہ کی جائیں۔ اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے مرکز کی طرف سے رجوع ہوتے ہوئے قومی سلامتی کے مفاد کے پیش نظر اس معاملت کی تفصیلات اور دفاعی خریدی کے معل سے متعلق دیگر معاملات کسی کو بھی نہیں بتائے جاسکتے جس پر عدالت نے مرکز رافیل معاملت پر فیصلہ سازی کے عمل کی تفصیلات 29 اکٹوبر تک سربہ مہر لفافہ میں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مقدمہ کی آئندہ سماعت 31 اکٹوبر کو مقرر کی۔ بنچ نے کہا کہ ’’رافیل جٹ طیاروں کی موزونیت یا اس کی قیمت کے مسئلہ پر نہیں بلکہ صرف فیصلہ سازی کے عمل پر تفصیلات چاہتے ہیں‘‘۔ بنچ نے کہا کہ درخواستوں میں عائد کردہ الزامات اور دیگر تفصیلات پر غور کئے بعیر صرف اپنے اطمینان کیلئے یہ معلومات طلب کی جارہی ہیں۔ مرکز نے مختلف بنیادوں پر مفاد عامہ کی ان دونوں درخواستوں کو مسترد کرنے کی استدعا کی تھی اور کہا تھا کہ یہ مفادعامہ کی درخواستیں نہیں ہیں بلکہ سیاسی مفاد پر مبنی ہیں اور سیاسی مقصد براری کیلئے روانہ کی گئی ہیں۔ مزید برآں ایسے مسائل پر عدالتی جائزہ نہیں لیا جاسکتا۔ کانگریس کے لیڈر اور آر ٹی آر کارکن تحسین پوناوالا نے بھی رافیل معاملت کے خلاف مفاد عامہ کی درخواست دائر کی تھی تاہم بعد میں واپس لے لیا۔ دو وکلاء و نیز دھانڈا اور ایم ایل شرما نے مفادعامہ کی دو مختلف درخواستوں کے ذریعہ اس معاملت میں بے قاعدگیوں کا ادعا کیا اور عدالت سے مداخلت کی استداع کی ہے جن کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ بنچ نے مرکز سے اس ضمن میں فیصلہ سازی کے عمل کی تفصیلات طلب کی ہے۔