متعلقہ کمیٹی سے مشورہ کے بغیر الوک ورما کیخلاف رات 1 بجے کارروائی ہوئی ، راہول کا خطاب
کوٹا (راجستھان)، 25 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے سی بی آئی سربراہ کو رات 1 بجے ہٹا دیا کیونکہ وہ خائف تھے کہ ایجنسی رافیل لڑاکا جٹ طیارہ معاملت کی تحقیقات شروع کرنے جارہی ہے۔ حکومت کے خلاف اپنی مہم کو مہیلا کانگریس تک لیجاتے ہوئے راہول نے کہا کہ سی بی آئی ڈائریکٹر کو صرف ایک سہ رکنی کمیٹی ہٹا سکتی ہے جو وزیراعظم، چیف جسٹس آف انڈیا اور اپوزیشن لیڈر پر مشتمل ہوتی ہے۔ تاہم، وزیراعظم نے دیگر ارکان سے مشورہ نہیں کیا اور اپنے طور پر فیصلہ کردیا، راہول نے یہ الزام عائد کیا جبکہ وہ مہیلا کانگریس کے ریاستی سطح کے کنونشن سے مخاطب تھے۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے ان الزامات کو ’’بکواس‘‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا کہ سی بی آئی ڈائریکٹر الوک ورما کو اس لئے ہٹا دیا گیا کیونکہ وہ رافیل معاملت کی تحقیقات کرنا چاہتے تھے۔ راہول نے یہ مسئلہ چہارشنبہ کو بھی جھلاور کی ریلی میں اٹھایا تھا۔ صدر کانگریس کے مطابق مودی نے رافیل کنٹراکٹ کو وزارت دفاع یا انڈین ایئر فورس سے مشاورت کے بغیر تبدیل کردیا۔ وزارت دفاع اور آئی اے ایف نے اس کنٹراکٹ پر برسوں کام کیا۔ لیکن وزیراعظم نے وزیر دفاع یا وزارت دفاع یا فضائیہ سے صلاح لئے بغیر 30,000 کروڑ روپئے کے کنٹراکٹ کو تبدیل کردیا۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ سی بی آئی اس کی انکوائری شروع کرنے والی تھی اور اس لئے وزیراعظم خائف ہوئے اور سی بی آئی سربراہ کو رات میں 1 بجے برخاست کردیا۔ راہول نے اپنے ’’چوکیدار‘‘ والے الزام کا اعادہ بھی کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم خائف ہیں کہ ملک کو معلوم ہوجائے گا کہ ’’چوکیدار‘‘ نے 30,000 کروڑ روپئے چرا لئے۔ وزیراعظم زیرقیادت کابینہ کی تقررات کمیٹی کی طرف سے رات دیر گئے جاری کردہ حکمنامہ نے ورما اور سی بی آئی اسپیشل ڈائریکٹر راکیش آستھانہ جو ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراؤ کی راہ پر تھے، دونوں کو رخصت پر بھیج دیا۔ جیٹلی نے چہارشنبہ کو کہا تھا کہ حکومت کا سی بی آئی کے دو اعلیٰ عہدیداروں کو ہٹانے کا فیصلہ سنٹرل ویجلنس کمیشن (سی وی سی) کی سفارشات پر مبنی ہے۔