راشن کارڈز کی اجرائی کے مسئلہ پر اسمبلی میں ہنگامہ ‘ اپوزیشن کا واک آوٹ

آئندہ ماہ سے نئے کارڈز کی اجرائی کی ضلع کلکٹرس کو ہدایت ۔ وزیر سیول سپلائز ای راجندر کا بیان
حیدرآباد/13نومبر ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی میں نئے راشن کارڈز کی اجرائی کے مسئلہ پر اپوزیشن اور برسر اقتدار جماعت کے مابین ہنگامہ آرائی، گرما گرم مباحث، شور وغل کے ساتھ الزامات و جوابی الزامات کا سلسلہ جاری رہا۔ بالآخر حکومت تلنگانہ کے آمرانہ رویہ و سفید راشن کارڈز کی اجرائی سے متعلق کوئی واضح تیقن میں ناکام ہوجانے کا الزام عائد کرکے کانگریس، تلگودیشم اور بی جے پی ارکان نے واک آؤٹ کردیا ۔ وائی ایس آر کانگریس سی پی آئی اور سی پی ایم نے صرف احتجاج کیا ۔ نئے راشن کارڈز کی اجرائی کے مسئلہ پر وقفہ سوالات کے دوران مسٹر سی ایچ رامچندرا ریڈی، ڈاکٹر کے لکشمن ارکان بی جے پی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر سیول سپلائیز و فینانس مسٹر ای راجندر نے کہا کہ سفید راشن کارڈز اب راجیو آروگیہ شری اور فیس ری ایمبرسمنٹ کیلئے کارکرد نہیں ہوگا۔ وزیر موصوف کے اس بیان کے ساتھ ہی ایوان میں تمام جماعتوں نے اعتراض کیا اور کہاکہ حکومت عوام کو دی جانے والی سہولتیں ختم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ای راجندر کہا کہ حکومت پرانے راشن کارڈز کو منسوخ نہیں کررہی ہے لیکن بعض نئے رہنمایانہ خطوط کے تحت تمام اہل غریب عوام کو جلد نئے راشن کارڈز جاری کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ آدھار کارڈ نمبرس دستیاب رہنے کی وجہ سے گلابی راشن کارڈز کو منسوخ کرنے پر حکومت غور کررہی ہے۔ راشن کارڈز پر دیئے جانے والے چاول کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چاول کی مقدار پر تحدیدات عاید نہیں کرے گی جبکہ اپوزیشن جماعتیں اس سلسلہ میں عوام کو غلط باور کروارہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر خاندان میں فی آدمی ایک روپیہ کیلو کے حساب سے چھ کیلو چاول فراہم کرنے کیلئے منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ نئے راشن کارڈز دینے تک پرانے کارڈز پر ہی راشن فراہم کیا جائے گا۔ آئندہ ماہ سے راشن کارڈز کی اجرائی عمل میں لانے تمام ضلع کلکٹرس کو ہدایات دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سفید راشن کارڈز حاصل کرنے دیہی علاقوں کیلئے آمدنی کی سالانہ حد 1.50 لاکھ روپئے اور شہری علاقوں کیلئے دو لاکھ روپئے آمدنی کی حد مقرر کی گئی ہے۔ وزیر سیول سپلائیز کے جواب سے غیر مطمئن مذکورہ اپوزیشن ارکان نے بطور احتجاج ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ وزیر امور مقننہ ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت غریبوں کی فلاح و بہبود کیلئے روبہ عمل لائی جانے والی تمام اسکیمات کو برداشت نہ کرکے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی خاطر حکومت پر بیجا الزام عاید کررہے ہیں۔