راشن شاپس ڈیلرس کو نظرانداز کرنے پر سنگین نتائج

ممبئی۔ 3 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے بھائی پرہلاد مودی جن کی تنظیم ، عوامی تقسیم نظام دکانات (راشن شاپس) کے مالکین کے ساتھ بہتر معاملہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے۔ آج خبردار کیا ہے کہ بہار اور اُترپردیش میں بی جے پی کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا، اگر مرکزی حکومت سے ان کے مطالبات پر خاموشی اختیار کرے گی۔ آل انڈیا فیر پرائس ڈیلرس فیڈریشن کے نائب صدر پرہلاد مودی نے آج آزاد میدان پر مرکز کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا اور یاد دہانی کروائی کہ اُترپردیش میں گزشتہ لوک سبھا اس بات کے دوران بی جے پی کے حق میں تنظیم نے نمایاں رول ادا کیا تھا اور کہا کہ راشن شاپس ڈیلرس کو نظرانداز کردینے سے زعفرانی پارٹی کا زوال شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ لوک سبھا اس بات میں بی جے پی نے اترپردیش کی 80 میں 73 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی کیونکہ 75 ہزار راشن شاپ ڈیلروں نے اس کی پرزور تائید کی تھی لیکن دہلی کے انتخآبات میں انہیں نظرانداز کردینے سے شکست سے دوچار ہوگئے۔ مسٹر پرہلاد مودی نے ایک اجتماع کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر بہار کے 70 ہزار ڈیلرس تعاون نہیں کریں گے اور بی جے پی کے امکانات موہوم ہوجائیں گے اور یہی حال اترپردیش میں ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم راشن بیچتے ہیں اور لوگوں کا پیار و محبت خریدتے ہیں اور محلہ کے راشن شاپس مالکین ارکان خاندان کی طرح ہوتے ہیں جوکہ رائے دہندوں پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راشن شاپس ڈیلرس کا رابطہ خواتین کی بناء ہے اور صرف 2 منٹ میں ان کا ذہن بدل سکتے ہیں جس کے نتیجہ میں ہم سرکار بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ عوامی تقسیم نظام کے ڈیلروں کا مطالبہ ہے کہ کمیشن میں اضافہ کیا جائے اور ہر ایک ڈیلر کو کم از کم 1,000/- کارڈس مختص کئے جائیں۔ پرہلاد مودی کی احمدآباد میں ایک راشن شاپ ہے اور 1980ء سے وہ اس کاروبار سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیلروں کے مطالبہ پر 17 مارچ کو جنتر منتر (دہلی) میں احتجاجی دھرنا منظم کیا جائے گا۔