نئی دہلی۔ 19 فروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے سائبر سکیورٹی بشمول سائبر فارنسکس اور ٹیکنالوجی کی مشترکہ ترقی کو اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے باہمی تعاون کے اہم شعبوں کی حیثیت سے شناخت کیا ہے تاکہ مادر وطن کی صیانت یقینی بنائی جاسکے۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پانچ رکنی اسرائیلی وفد کو اس کی اطلاع دی جس کی قیادت وزیر دفاع اسرائیل موشے یالون کررہے ہیں۔ وزیر دفاع اسرائیل نے آج مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مادر وطن کی صیانت کیلئے ہمارا تعاون دونوں ممالک کی مشترکہ صیانتی ضروریات کی عکاسی کرتا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے دفاع کے شعبہ میں مستحکم باہمی تعلقات کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس تعاون میں پیشرفت کی ضرورت ہے۔ ہندوستان ۔ اسرائیل ورکنگ گروپ برائے مادر وطن کی صیانت کے چار اجلاس مقرر ہیں جن میں سے پہلا اجلاس آئندہ ماہ ہندوستان میں منعقد کیا جائے گا۔
راج ناتھ سنگھ نے اسرائیل سے خواہش کی کہ وہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی راست غیرملکی سرمایہ کاری کی حد برائے شعبہ دفاع سے استفادہ کرے جسے 49 فیصد کردیا گیا ہے اور اعادہ کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ترجیح ہندوستان میں پیداواری شعبہ کو ترقی دینا ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کی کہ گزشتہ سال نومبر میں انہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اسرائیل نے ہندوستان کے ساتھ جدید ترین ہتھیاروں کی ٹیکنالوجیوں میں شراکت داری کی خواہش ظاہر کی ہے۔ دونوں ممالک پیشرفت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیرفوجی باہمی تجارتی تعلقات کی مالیت گزشتہ سال جنوری تا نومبر 2014ء کے دوران 4 ارب امریکی ڈالر مالیت سے زیادہ ہوچکی ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کا مفاد اسرائیل کے ساتھ آزاد تجارت معاہدہ سے خاص طور پر خدمات کے شعبہ میں وابستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں خدمات کی اچھی پیشکش کی ضرورت ہے تاکہ آزاد تجارت معاہدہ کو ہندوستانی شعبہ صنعت کیلئے پرکشش بنایا جاسکے۔ ہندوستان کا دورہ کرنے والے وزیر دفاع اسرائیل موشے یالون نے کہا کہ داخلی سلامتی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں دونوں ممالک کو چیلنجس درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں صلاحیتیں ہیں اور وہ تحقیق و ترقی کے شعبوں میں سائنس و ٹیکنالوجی کے سلسلے میں باہم تعاون کرسکتے ہیں۔ موشے یالون نے پرزور انداز میں کہا کہ مشترکہ تعاون میں اضافہ اور مشترکہ وینچرس میں اضافہ دونوں ممالک کے درمیان ایک یادداشت مفاہمت کے ذریعہ ممکن ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں اور تیقن دیا کہ اسرائیلی وفد کے ساتھ بھرپور تعاو ن کیا جائے گا۔
ہند ۔ اسرائیل تعاون کی کوئی حد نہیں: موشے یالون
کئی شعبہ جات میں دونوں ممالک کی پس پردہ سرگرمیاں : وزیر دفاع اسرائیل
نئی دہلی 19 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) اسرائیل کے وزیر دفاع موشے یالون نے ہندوستان کے اپنے پہلے دورہ کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ ان کا ملک دفاع اور سکیوریٹی کے شعبہ میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرے بنانے ٹکنالوجی اور مہارت فراہم کرنے کو تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین تعاون و اشتراک کی کوئی حد نہیں ہے ۔ اسرائیل سے فوجی ہارڈویر کی خریدی میں ہندوستان سب سے بڑا خریدار ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ 1992 میں دونوں ملکوں کے مابین مکمل سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے اسرائیل کے وزیر دفاع ہندوستان کے دورہ پر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر اعتبار سے یہ ایک تاریخی دورہ ہے ۔ اب تک ہم اپنے سکیوریٹی تعلقات کو پس منظر میں رکھتے رہے ہیں ۔ ہمیں ہندوستان اور اسرائیل کے مابین کئی طرح کی یکسانیت محسوس ہوتی ہے ۔ انہوں نے آبزرور ریسرچ فاونڈیشن میں آر کے مشرا یادگار لیکچر میں چھٹا سالانہ لیکچر دیتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ یالون نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کے میک ان انڈیا نعرہ کیلئے مبارکباد دی اور کہا کہ ہندوستان کے ساتھ مہارت کو بانٹنے میں اسرائیل کا رویہ لچکدار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک چھوٹا ملک ہے لیکن وہ ہندوستان کے ساتھ بہت کچھ بانٹتا ہے ۔ ہم نے ایک دوسرے سے پس پردہ تعاون کا راستہ اختیار کیا تھا جب سکیوریٹی کا مسئلہ رہا ہے ۔ ہم کئی شعبہ جات میں ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاع اور سکیوریٹی کے علاوہ ٹکنالوجی کے شعبہ میں ہندوستان سے ہر طرح کا تعاون کرنے ان کا ملک تیار ہے ۔ یہ تعاون حکومت تا حکومت کی سطح پر اور خانگی شعبہ کی سطح پر بھی ہوسکتا ہے ۔