راج ٹھاکرے کیخلاف کارروائی پر ہائیکورٹ کا حکم التوا

نئی دہلی ۔ 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج مہاراشٹرا نونرمان سینا کے صدر راج ٹھاکرے کے خلاف مقدمہ کی کارروائی پر حکم التوا جاری کیا ہے۔ 2008ء میں بہاریوں کے خلاف کئے گئے ان کے مبینہ ریمارکس پر مختلف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ جسٹس سنیل گوڑ کی بنچ نے تحت کی عدالت کے احکام پر حکم التوا جاری کیا اور کہاکہ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ کس شکایت کنندہ کی بنیاد پر تحت کی عدالت نے راج ٹھاکرے کے خلاف سمن جاری کیا تھا۔ اس معاملہ پر عدالت سنجیدہ ہے۔ قبل ازیں عدالت نے 12 فبروری کو اس کیس کے 8 فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جنہوں نے ٹھاکرے کے خلاف علحدہ علحدہ شکایتیں درج کی تھیں، ایم این ایس کے سربراہ کی درخواست پر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ راج ٹھاکرے نے تحت کی عدالت میں مقدمہ کی کارروائی کو روکنے کیلئے ہائیکورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔ ان کے خلاف اشتعال انگیز ریمارکس کرنے کے الزامات ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ اروند نگم نے ٹھاکرے کی پیروی کرتے ہوئے عدالت کے سامنے دلیل پیش کی کہ تحت کی عدالت میں کارروائی کیلئے منظوری کے بغیر مقدمہ چلایا نہیں جاسکتا لہٰذا یہ سمن غیرضروری ہے۔ قبل ازیں 30 جنوری 2013ء کو عدالت نے راج ٹھاکرے کے خلاف غیرضمانتی گرفتاری وارنٹ پر بھی حکم التواء جاری کیا تھا۔ مہاراشٹرا نونرمان سینا کے سربراہ کے خلاف مختلف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ٹھاکرے کی درخواست کے مطابق کئی شکایت کنندوں نے 2008ء میں دہلی، جھارکھنڈ اور بہار کے بشمول مختلف مقامات پر ان کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ شکایت کنندوں نے الزام عائد کیا کہ راج ٹھاکرے نے بہار کے عوام کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کی ہیں۔