راجیہ سبھا میں حصول اراضی قانون کی منظوری میں رکاوٹ

کھنڈوا (مدھیہ پردیش) ۔ 5 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) حصول اراضی قانون کو کاشتکار دشمن قرار دیتے ہوئے راجیہ سبھا میں اپوزیشن پارٹی نے اس قانون کی منظوری میں رکاوٹیں پیدا کی جہاں پر این ڈی اے حکومت کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون سابق حکومت کی جانب سے منظور کیا گیا تھا لیکن اسکولس، ہاسپٹلس، مکانوں، پانی اور آبپاشی کیلئے اراضی مختص کرنے کی کوئی دفعات اس میں نہیں تھیں۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا آپ کو ان تمام سہولتوں کی ضرورت ہے یا نہیں۔ انہوں نے 600 میگاواٹ فی کس شری سنگاجی تھرمل پاور پلانٹ کے دو یونٹس قوم کے نام معنون کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ وزیراعظم نے 660 میگاواٹ فی کس یونٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔

یہ پراجکٹ کا دوسرا مرحلہ ہے۔ مودی نے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن سے خواہش کی ہیکہ حصول اراضی قانون بہتر بنانے کا طریقہ تجویز کریں لیکن اس کی جانب سے کوئی جواب وصول نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ میں کاشتکار دشمن نہیں ہوں۔ ہم کاشتکاروں کی کبھی مخالفت نہیں کریں گے۔ میں دیگر پارٹیوں سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ مجھے بہتری کے بارے میں بتائیں لیکن انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ غریب عوام کو ہاسپٹلس، اسکولس، سڑکوں، مکانوں، پانی، برقی توانائی اور آبپاشی کی سہولتیں درکار ہیں لیکن سابقہ قانون میں ان کیلئے کوئی دفعات موجود نہیں تھی۔ سابق حکومت نے ہاسپٹلس، سڑکوں، اسکولس اور مکانوں کیلئے بھی اراضی دینے سے انکار کردیا تھا۔ سابق حکومت نے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت کاشتکاروں کو پانی اور آبپاشی سہولتیں حاصل نہیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ 2015-16ء کیلئے مرکزی بجٹ کی دفعات سماعت کے تمام طبقات کی فلاح و بہبود کیلئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے غریبوں، کاشتکاروں، قبائیلی برادریوں، دلت بہنوں اور بھائیوں کی فلاح و بہبود کیلئے بجٹ فراہم کیا ہے۔ انہوں نے ترقی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے خاص طور پر برقی سربراہی پر زور دیا۔ مودی نے کہا کہ یہ ملک کے فروغ کیلئے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ برقی توانائی کی بچت کریں۔ انہوں نے کہا کہ برقی توانائی بچانا آئندہ نسل کے درخشاں مستقبل کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ برقی توانائی کی بچت کے طریقے سوچیں۔ یہ ہمارے بچوں کیلئے اہم ہیں۔ عوام کا تقریباً نصف فیصد حصہ برقی توانائی تک رسائی سے محروم ہے۔ برقی توانائی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہ صرف اس سے مکان جگمگاتے ہیں اور مستقبل درخشاں ہوتا ہے۔ برقی توانائی نے عالم انسانیت کی ترقی میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ برقی توانائی کے بغیر خوابوں کی تعبیر ممکن نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کثیر تعداد میں دیہاتوں کی اب بھی برقی توانائی تک رسائی نہیں ہے۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ ہم ایسے لوگ ہیں جو امیر نہیں ہیں بلکہ غریب ہیں۔

کسی کو بھی برقی توانائی سے محروم کرنا کسی شخص کو حجری دور میں کھینچ کر لے جانے کے مترادف ہے۔ اس موقع پر نریندر مودی نے عوام کو ہولی تہوار کی مبارکباد دی اور چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان کو ان کی 56 ویں سالگرہ پر مبارکباد بھی پیش کی۔ اس تقریب میں مرکزی وزیر برقی توانائی پیوش گوئل اور چوہان نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہر 19 کوئلہ بلاکس کا نیلام 1.10 لاکھ کروڑ روپئے میں کیا گیا تھا جبکہ یو پی اے دورحکومت میں کوئلہ بلاک مختص کرنے سے 1.86 لاکھ کروڑ روپئے کی خطیر رقم کا نقصان ہوا تھا۔ یہ تخمینہ سرکاری آڈیٹر سی اے جی کا ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ تازہ ترین شفاف نیلام کے ذریعہ ریاستوں کو بھی مالیہ کا بڑا حصہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے مدھیہ پردیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس ریاست کو 4 کوئلہ بلاکس سے 40 ہزار کروڑ روپئے حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کی مہم چلاتے وقت انہوں نے اعلان کیا تھا کہ دہلی جانے کے بعد وہ بحیثیت وزیراعظم نہیں بلکہ بحیثیت چوکیدار کام کریں گے چنانچہ وہ ایک ایک پیسے پر نظر رکھ رہے ہیں جو عوام کی ملکیت ہے کیونکہ وہ ان کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی شخصی پروگرام نہیں ہے جس پر وہ عمل کریں گے۔