راجیو گاندھی ایرپورٹ کے ڈومسٹک ٹرمینل کو این ٹی آر سے موسوم کرنے کی مخالفت

حیدرآباد۔/21نومبر، (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی نے آج ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز سے درخواست کی کہ وہ شمس آباد میں واقع راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ کے ڈومسٹک ٹرمینل کو سابق متحدہ آندھراپردیش کے چیف منسٹر آنجہانی این ٹی راما راؤ سے موصوم کرنے اپنے فیصلہ پر دوبارہ غور کرتے ہوئے ’’ جوں کا توں موقف ‘‘ برقرار رکھا جائے ۔ تلگودیشم پارٹی نے اس قرارداد کی مخالفت کی ۔ بی جے پی نے اس کی طرف سے پیش کردہ ترمیمات کو قرارداد میں شامل نہ کئے جانے پر احتجاج کیا ۔ اسمبلی کا اجلاس آج جیسے ہی شروع ہوا اصل اپوزیشن جماعت کانگریس نے تحریک التواء پیش کرتے ہوئے اس مسئلہ کو موضوع بنایا ۔ جس کے ساتھ ہی ایوان میں زبردست ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر ٹی جیون ریڈی نے کہا کہ ڈومسٹک ٹرمینل کیلئے این ٹی راما راؤ کے نام کا احیاء دراصل تلنگانہ پر سیما آندھرا کے غلبہ و تسلط کے باقی و برقرار رہنے کی علامت ہوگا ۔ جس کے جواب میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ’’ یہ ایک حساس مسئلہ ہے اور مرکز کا یکطرفہ فیصلہ درحقیقت تلنگانہ کی توہین ہے ‘‘ ۔ چیف منسٹر نے یہ ریمارک بھی کیا کہ اگر مرکزی حکومت ڈومسٹک ٹرمینل کا نام تبدیل ہی کرنا چاہتی ہے تو اس ضمن میں تلنگانہ کے کسی فرد کے نام پر غور کیا جاسکتا ہے ‘‘ ۔ کے سی آر نے کہا کہ ’’ کیا مرکز کو ہمارے احساسات تسلیم نہیں کرنا چاہئے ؟ ۔ وہ ( مرکز ) اس ( ٹرمینل ) کو آنجہانی وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ سے بھی موسوم کرسکتے ہیں جو سرزمین تلنگانہ کے سپوت ہیں ‘‘ چیف منسٹر کلواکنٹلہ چندر شیکھر راؤ چاہتے تھے کہ اسپیکر مدھو سدن چاری اس مسئلہ پر فیصلہ تمام جماعتوں کے فلور لیڈرس کا اجلاس طلب کریں ۔ چنانچہ 10 منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی گئی ۔ تاہم نصف گھنٹے کے بعد جیسے ہی اجلاس دوبارہ شروع ہوا چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر قرارداد پیش کرنے کی تجویز پیش کی ۔ تلگودیشم کے ارکان نے اس تجویز پر اعتراض کیا ۔ لیکن دیگر تمام جماعتوں نے اس کی تائید کی ۔ قرارداد میں مرکزی حکومت سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنے فیصلہ پر نظرثانی کرتے ہوئے موجودہ جوں کا توں موقف برقرار رکھے۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ڈومیسٹک ایر پورٹ کو این ٹی راما راؤ سے موسوم کرنے سے متعلق اہم فیصلہ کے سلسلہ میں مرکز نے ریاستی حکومت سے کوئی مشاورت نہیں کی اور آج صبح انہیں مرکز کے فیصلہ کے احکامات وصول ہوئے۔انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت این ٹی راما راؤ کا احترام کرتی ہے اور نام کی تبدیلی پر اعتراض کا مقصد این ٹی آر کی توہین کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش حکومت تروپتی، وجئے واڑہ، راجمندری، وشاکھاپٹنم میں تعمیر کئے جانے والے ایرپورٹس کا نام این ٹی راما راؤ سے موسوم کرے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی نے ملک کیلئے اپنی جان قربان کی ہے لہذا حکومت چاہتی ہے کہ اسی نام کو برقرار رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ این ٹی راما راؤ ایک عظیم فنکار اور شخصیت کے حامل تھے ان کی خدمات کا اعتراف حکومت کو ہے تاہم تلنگانہ میں واقع ایرپورٹ کو ان کے نام سے موسوم کرنے کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے قرارداد کی تائید کی اور کہا کہ راجیو گاندھی نے ملک کیلئے اپنی جان قربان کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ٹی راما راؤ کے نام کی مخالفت کرنا ان کی توہین نہیں بلکہ تلنگانہ عوام کے جذبات کی ترجمانی ہے۔ انہوں نے مرکز سے اس فیصلہ پر نظر ثانی کی اپیل کی۔ تلگودیشم فلور لیڈر دیاکر راؤ نے کہا کہ سابق میں ڈومیسٹک ایرپورٹ کا نام این ٹی راما راؤ سے موسوم کیا گیا تھا بعد میں وائی ایس آر حکومت نے اسے تبدیل کردیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مرکز نے انٹر نیشنل ٹرمنل کا نام راجیو گاندھی ایر پورٹ کی حیثیت سے برقرار رکھا ہے جبکہ ڈومیسٹک ٹرمنل کو این ٹی راما راؤ کے نام سے موسوم کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی ریاستوں میں انٹر نیشنل اور ڈومیسٹک ایرپورٹس کے علحدہ علحدہ ناموں کی مثالیں موجود ہیں۔ دیاکر راؤ نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت کو ایرپورٹ کا نام تبدیل کرنا ہی ہے تو اسے راجیو گاندھی اور این ٹی آر دونوں کے بجائے تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی دیگر اہم شخصیتوں کے ناموں پر غور کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ انٹر نیشنل ایرپورٹ کو اگر سابق وزیر اعظم نرسمہا راؤ کے نام سے موسوم کیا جائے تو تلگودیشم اس کی تائید کرے گی۔ بی جے پی کے کشن ریڈی نے پی وی نرسمہا راؤ اور جہد کمارکمرم بھیم کے نام کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کو ریاستی حکومت سے مشاورت کے ذریعہ ناموں کا تعین کرنا چاہیئے۔ کشن ریڈی نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ان کی پارٹی وزیر اعظم سے نمائندگی کیلئے تیار ہے۔ ایس راجیا ( سی پی ایم ) ٹی وینکٹشیورلو ( وائی ایس آر کانگریس ) اور رویندر کمار سی پی آئی نے قرارداد کی تائید کی۔ چیف منسٹر نے وضاحت کی کہ قرارداد کا مقصد مرکزی حکومت سے ٹکراؤ نہیں بلکہ حکومت جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کی درخواست کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو صرف اس بات پر اعتراض ہے کہ اس سے اس فیصلہ کے بارے میں کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پر مرکز سے نمائندگی کی جائے گی۔ بی جے پی اور تلگودیشم کے احتجاج کے دوران قرارداد کو ندائی ووٹ سے منظور کرلیا گیا۔