راجگوپال کی وضاحت، الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مترادف

حیدرآباد /14 فروری (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل پی سدھاکر ریڈی نے کل پارلیمنٹ میں پیش آئے واقعہ کو بدنما داغ قرار دیا اور خود کا بھگت سنگھ سے تقابل کرنے والے لگڑا پارٹی راجگوپال پر مجاہد آزادی بابو جگجیون رام کی دختر اسپیکر لوک سبھا کی توہین کا الزام عائد کیا۔ آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کانگریس رکن پارلیمنٹ کے اسپرے اور تلگودیشم رکن پارلیمنٹ کے چاقو رکھنے کی سخت مذمت کی، جب کہ ایل راجگوپال کی وضاحت کو ’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ کے مترادف قرار دیا۔

انھوں نے واقعہ کے ذمہ دار دونوں ارکان پارلیمنٹ کے خلاف تاحیات مقابلہ کے لئے امتناع عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے صدر تلگودیشم این چندرا بابو نائیڈو پر الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کی تائید میں مرکز کو مکتوب پیش کرنے کے بعد بھی وہ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے موقع پر اپنا موقف تبدیل کرچکے ہیں اور تلنگانہ بل کی تائید کرنے والی بی جے پی کو اتحاد کا لالچ دے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کی سنجیدگی شکوک سے بالاتر ہے، جب کہ جن جماعتوں نے تلنگانہ کی تائید کی تھی، وہ پارلیمنٹ میں تلنگانہ بل کی تائید کے معاملے میں بہانہ بازی سے کام لے رہی ہیں، جب کہ کانگریس اپنے عہد کی پابندی کر رہی ہے۔ انھوں نے لوک سبھا میں مرچ پاؤڈر استعمال کرنے والے راجگوپال اور ان کی تائید کرنے والے جگن موہن ریڈی کی سخت مذمت کی اور پارلیمنٹ واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔