راجدھانی کے نام جبراً اراضیات کا حصول بند کرنے پر زور

سکریٹری سی پی آئی اے پی پی مدھو کا مطالبہ
حیدرآباد /25 جولائی ( سیاست نیوز ) سکریٹری سی پی آئی ایم آندھراپردیش مسٹر بی مدھو نے راجدھانی کے نام پر زبردستی اراضیات حاصل کرنے ( حصول اراضیات ) کے اقدامات کو فی الفور روک دینے کا چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی زیر قیادت ریاستی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ۔ مسٹر پی مدھو جنہوں نے آج راجدھانی کے کسانوں سے ملاقات کی تھی ۔ اپنا اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کسانوں کے ساتھ آمرانہ رویہ اختیار کر رہی ہے اور حکومت کے ان اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے و استفادہ کرنے کی جو کوشش کر رہے ہیں ان کا گلا دبانے کی وجوہات دریافت کیں ۔مسٹر مدھو نے 2013 قانون حصول اراضی میں ترمیم کردہ بل سے فی الفور دستبرداری اختیار کرنے کا حکومت سے پرزور مطالبہ کیا اور کہا کہ کسانوں کو نقصان پہونچائے جانے والے ترمیمات کی بائیں بازو جماعتیں اور اپوزیشن جماعتیں پرزور مخالفت کر رہی ہیں ۔ انہوں نے چیف منسٹر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ 2013 قانون حصول اراضی کے تحت کسانوں کو فراہم کردہ حقوق کو مسٹر چندرا بابو نائیڈو کی زیر قیادت حکومت نے مکمل طور پر نقصان پہونچانے کی کوشش کی ہے ۔ سکریٹری ریاستی سی پی آئی ایم نے حصول اراضی قانون میں ترمیم کے مسئلہ پر حکومت کے خلاف جنگ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مسٹر پی مدھو نے کہا کہ سی پی آئی ایم کسانوں کے مسائل و مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے ہمیشہ ساتھ دے گی ۔ کیونکہ تلگودیشم حکومت نے انتہائی خطرناک حصول اراضی قانون مرتب کیا ہے اور اس قانون کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے پر بھی کسانوں کو منفی نتیجہ حاصل ہو رہا ہے اور عدلیہ سے رجوع ہونا بھی کوئی فائدہ مند ثابت نہیں ہوگا ۔ ریاستی تلگو دیشم حکومت کو ہدف ملامت بناتے ہوئے کہا کہ اصل اپوزیشن کے ارکان اسمبلی ایوان میں موجود نہ رہنے کے وقت مسٹر چندرا بابو نائیڈو کی زیر قیادت حکومت نے حصول اراضی قانون ترمیمی بل کو اسمبلی میں پیش کرکے منظور کیا گیا جوکہ انتہائی دھوکہ دینے کے مترادف اقدام ہے ۔