رات دیر گئے شہر میں خورد ونوش کے مراکز، نوجوانوں کیلئے آوارہ گردی کے اسباب

بروقت تجارت بند نہ کروانے سے کئی مسائل، پولیس کی نوجوانوں کو کونسلنگ قابل ستائش
حیدرآباد 24 مئی (سیاست نیوز) محکمہ پولیس کی جانب سے رات دیر گئے سڑکوں پر گشت کرنے والے نوجوانوں کو حراست میں لیتے ہوئے والدین کی کونسلنگ کو یقینی بنانے کے اقدامات قابل ستائش ہیں لیکن محکمہ پولیس پر اس بات کی بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہر میں نظم و ضبط کی برقراری کے لئے رات دیر گئے نوجوانوں کو حراست میں لینے کے ساتھ ساتھ بازاروں کو بروقت بند کروانے کے اقدامات کرے تاکہ جب شہر میں کوئی چیز دستیاب ہی نہ ہو تو نوجوانوں کی جانب سے سڑکوں پر آوارہ گردی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں دو یوم قبل کئے گئے پولیس آپریشن کے متعلق دونوں شہروں کے مختلف گوشوں کی جانب سے ستائش کی جارہی ہے اور اس طرح کی مہم کو معاشرتی برائیوں کے خاتمہ میں معاون قرار دیا جانے لگا ہے لیکن صرف اس کارروائی کے ذریعہ پولیس اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار نہیں کرسکتی کیونکہ پولیس پر اس بات کی بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف آوارہ گردی کرنے والے نوجوانوں کو حراست میں لے بلکہ آوارہ گردی کے اسباب پیدا کرنے والوں کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر کارروائی کو یقینی بنائے۔ حکومت نے شہر میں 12 بجے تک ہوٹلوں کے کاروبار کو کھلا رکھنے کی باضابطہ اجازت فراہم کر رکھی ہے۔ علاوہ ازیں غیر لائسنس یافتہ ٹھیلہ بنڈیوں کے خلاف بھی رات کے اوقات میں شہر میں کاروبار عروج پر ہے لیکن محکمہ پولیس کی جانب سے رات 12 بجے کے بعد کاروبار کرنے والے خوردونوش کے مراکز کو نشانہ بنانے سے بالعموم گریز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ دونوں شہروں کے مختلف مقامات پر رات دیر گئے دوسہ اڈلی کلچر عام ہوتا جارہا ہے اور پولیس کی جانب سے تمام تفصیلات رکھنے کے باوجود اِن اشیائے خورد و نوش کے مراکز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے جس کے سبب نوجوانوں کے حوصلوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ ہفتہ کی شب جس وقت پولیس نے سینکڑوں نوجوانوں کو صنعاء گارڈن نزد چارمینار منتقل کیا گیا تو رات دیر گئے بعض نوجوانوں کے رشتہ داروں نے اُنھیں کھانا فراہم کرنے کی اجازت طلب کی جب محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے اس کی اجازت دی تو دیکھا گیا کہ رشتہ دار قریب میں موجود اڈلی دوسہ کی بنڈیوں سے اڈلی دوسہ پیاک کرواکر حراست میں لئے گئے نوجوانوں کو فراہم کررہے تھے۔ پولیس کی کارروائی کی تقریباً تمام گوشوں سے ستائش کی جارہی ہے لیکن ساتھ میں اس بات کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے کہ پولیس 12 بجے کے بعد شہر میں موجود اڈلی دوسہ کی بنڈیوں اور اشیائے خورد و نوش کے مراکز کو سختی کے ساتھ بند کروائے تاکہ اوباش نوجوانوں کو تفریحی مراکز دستیاب ہی نہ رہیں۔