رائے دہی کے دن ، نیم فوجی دستوں کی تعیناتی ناگزیر

چیف الکٹورل و ضلع الکٹورل آفیسرس سے سیاسی جماعتوں کی متعدد نمائندگیاں
حیدرآباد۔9اکٹوبر(سیاست نیوز) شہر میں انتخابات بالخصوص رائے دہی کے دن امن و امان کی برقراری کے علاوہ نظم و ضبط کو قائم رکھنے غیر جانبداری کے لئے نیم فوجی دستوں کی تعیناتی ناگزیر ہے اور اس سلسلہ میں کئی سیاسی جماعتوںکی جانب سے چیف الکٹورل آفیسر اور ضلع الکٹورل آفیسر سے بھی متعدد نمائندگیاں کی جا چکی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ نیم فوجی دستوں کی عدم تعیناتی کے خلاف سیاسی جماعتوں کے قائدین اس مسئلہ پر بھی عدالت سے رجوع ہوسکتے ہیں کیونکہ سیاسی جماعتوں کے قائدین کا احساس ہے کہ شہر حیدرآباد میں انتخابات کے دوران مقامی عملہ پر سیاسی دباؤ ہوتا ہے اور وہ دباؤ کے تحت خدمات انجام دیتے ہوئے برسراقتدار جماعت کے امیدواروں کے اشاروں پر کام کرتے ہیں ۔انتخابات کے انعقاد کیلئے موجود رہنمایانہ خطوط کے مطابق ہر مرکز رائے دہی پر دو بندوق بردار نیم فوجی دستہ سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کی تعیناتی لازمی ہے لیکن انتخابی عہدیداروں کی جانب سے بعض نشاندہی کردہ مراکز رائے دہی کو حساس اور انتہائی حساس کے زمرہ میں شامل کرتے ہوئے ان مقامات پر ہی نیم فوجی دستہ کے اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر مرکز رائے دہی پر نیم فوجی دستہ کے اہلکاروں کو تعینات کیا جانا لازمی ہے ۔سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کا کہناہے کہ انتخابات کو شفاف طریقہ سے منعقد کرنے کیلئے ضروری ہے کہ نیم فوجی دستوں اور غیر جانبدار عملہ کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں صبح کی اولین ساعتوں سے ہی ہنگامہ آرائی شروع ہوجاتی ہے اور علاقہ میں اثر رکھنے والے سیاسی قائدین اور امیداروںکی ٹولیاں دیگر امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کو نکال باہر کرتی ہیں جس کے سبب رائے دہی کے عمل میں شفافیت برقرار نہیں رہتی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کا کہناہے کہ پولنگ ایجنٹس کی عدم موجودگی ہی دھاندلیوں کا سبب بنتی ہے اسی لئے مراکز رائے دہی پر نیم فوجی دستوں کی تعیناتی ضروری ہے تاکہ ہنگامہ کی صورت میں غیر جانبدارانہ کاروائی کو ممکن بنایا جاسکے۔