مجلس پر بوگس رائے دہی کا الزام، حیدرآباد کے عوام کی خدمت جاری رکھنے کا عہد
حیدرآباد۔11 اپریل (سیاست نیوز) حلقہ لوک سبھا حیدرآباد کے کانگریس امیدوار محمد فیروز خان نے کہا کہ عوام میں رائے دہی کے بارے میں جوش و خروش کی کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ گزشتہ 40 سالہ قیادت سے عوام بیزار ہوچکے ہیں کیوں کہ پرانے شہر کی ترقی کو نظرانداز کردیا گیا۔ رائے دہی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے فیروز خان نے کہا کہ لوک سبھا حلقہ حیدرآباد میں 39 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ اس میں محض 10 فیصد ہی حقیقی رائے دہندے شامل ہیں جبکہ باقی بوگس رائے دہی ہے جو مقامی سیاسی جماعت نے اپنے کارندوں کے ذریعہ کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شکست کے خوف سے مجلسی قیادت نے دولت اور طاقت کا استعمال کیا۔ روڈشیٹرس اور سودخوروں کو استعمال کرتے ہوئے پرانے شہر میں بوگس رائے دہی کرائی گئی اور فہرست رائے دہندگان میں 5 لاکھ 50 ہزار بوگس ناموں کی موجودگی سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ فیروز خان نے رائے دہندوں سے اظہار تشکر کیا جنہوں نے 3 ہفتوں کی انتخابی مہم کے دوران ان کی نہ صرف بھرپور تائید کی بلکہ انہیں اپنی محبتوں اور سرپرستی سے نوازا۔ فیروز خان نے کہا کہ وہ جہاں کہیں جاتے بزرگ افراد انہیں دعائیں دیتے جبکہ نوجوان موجودہ قیادت سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے تائید کا یقین دلاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں 5 لاکھ 50 ہزار فرضی اور بوگس ناموں کی نشاندہی کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے بارہا نمائندگی کی گئی لیکن کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر ناموں کو حذف نہیں کیا گیا جس کا فائدہ مجلس نے اٹھایا ہے۔ فیروز خان نے پولیس اور الیکشن کمیشن عملے کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ دونوں اداروں نے غیر جانبدارانہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ فہرست رائے دہندگان میں عدم درستگی کا فائدہ مجلس نے اٹھایا جس کے لیے وہ پولیس اور الیکشن عملے کو ذمہ دار نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو کم از کم آئندہ انتخابات سے قبل فرضی ناموں کو فہرست سے خارج کرنا چاہئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی آر ایس اور اس کی حلیف جماعت نے کروڑہا روپئے خرچ کیئے ہیں۔ ٹی آر ایس کی جانب سے ہر لوک سبھا حلقہ میں 50 کروڑ سے زائد خرچ کیئے گئے اور ووٹ خریدے گئے ہیں۔ فیروز خان نے کہا کہ عوام کی بے پناہ تائید کا دعوی کرنے والی پرانے شہر کی قیادت کا پول رائے دہی کے فیصد سے کھل چکا ہے۔ اگر واقعی عوام ان کے کارناموں سے مطمئن ہوتے تو رائے دہی کا فیصد اس قدر کم نہ ہوتا عوامی مایوسی کا نتیجہ ہے کہ ہر الیکشن میں رائے دہی کا فیصد گھٹتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے پرانے شہر کی ترقی اور بوگس رائے دہی کے بارے میں مجلسی قیادت کو کھلے مباحث کا چیلنج کیا تھا لیکن دونوں چیلنجس کو قبول نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر کے عوام اس بات پر ناراض ہیں کہ ان کی نمائندگی کے دعویدار ہمیشہ سودے بازی کے ذریعہ اپنی دولت اور اثاثہ جات کے اضافے میں مصروف رہے ہیں۔ فیروز خان نے کہا کہ نتائج جو کچھ ہوں لیکن وہ حلقہ لوک سبھا حیدرآباد کے عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔