کئی پولنگ بوتھس سنسان، انتخابی عملے کو رائے دہندوں کا انتظار
حیدرآباد۔/2فبروری، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد انتخابات میں الیکشن کمیشن اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے رائے دہی کے فیصد میں اضافہ کی مہم کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا اور بیشتر بلدی وارڈز میں رائے دہی توقع سے کافی کم رہی۔ صبح 7بجے جیسے ہی رائے دہی کا آغاز ہوا، پرانے شہر اور نئے شہر کے کئی پولنگ بوتھس سنسان دکھائی دے رہے تھے۔ انتخابی عملہ اور پولیس کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا اور سیاسی پارٹیوں کے ایجنٹس بھی عوام کی عدم دلچسپی کے باعث تاخیر سے پولنگ بوتھس پہنچے۔ ایک گھنٹے تک انتخابی عملے کو رائے دہندوں کی قطار کیلئے بے چین دیکھا گیا لیکن رائے دہندے یکا دکا تعداد میں پہنچتے دیکھے گئے۔ دوپہر 12بجے تک بھی کئی علاقے ایسے تھے جہاں پولنگ بوتھس پر رائے دہندے موجود نہیں تھے اور مجموعی رائے دہی 20فیصد تک بھی نہیں پہنچی تھی۔ پرانے شہر کے بعض پولنگ بوتھس ایسے تھے جنہیں دیکھ کر یہ اندازہ کرنا مشکل تھا کہ یہ پولنگ کے مراکز ہیں۔ عام طور پر پولنگ اسٹیشن کے اطراف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کا ہجوم دیکھا جاتا ہے لیکن اس بار اس طرح کی کوئی سرگرمی نہیں تھی۔ ایسے بلدی حلقہ جات جہاں مقامی جماعت مجلس کو دیگر امیدواروں سے سخت مقابلہ درپیش تھا صرف ان حلقہ جات کے مخصوص بوتھس پر سیاسی کارکنوں اور رائے دہندوں کو دیکھا گیا۔ پولیس نے اگرچہ حساس علاقوں میں سخت چوکسی اختیار کرلی تھی لیکن رائے دہندوں کی عدم دلچسپی سے پولیس کو بھی مایوسی ہوئی۔ مجلس کو کانگریس سے سخت مقابلہ والے بوتھس کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا تھا۔ بعض مقامات پر پولیس رائے دہندوں سے شناختی کارڈ طلب کررہی تھی جبکہ بیشتر علاقوں میں رائے دہی کیلئے صرف ووٹر سلپ قبول کئے جارہے تھے۔ پرانے شہر کے کئی پولنگ اسٹیشنوں میں اپوزیشن کا کوئی ایجنٹ تک نہیں تھا اور مجلس کے کارکن کسی رکاوٹ کے بغیر اپنے حامیوں سے رائے دہی میں مصروف تھے۔ اس سلسلہ میں جب مقامی پولیس سے شکایت کی گئی تو انہوں نے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے شکایت کا مشورہ دیا۔ پولیس اور انتخابی عملے کی مقامی جماعت سے ملی بھگت صاف طور پر دکھائی دے رہی تھی۔