رائے دہندگان کی قطعی فہرست12اکٹوبر تک جاری کرنے ہائی کورٹ کی ہدایت

اسمبلی تحلیل کرنے کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ، ووٹر لسٹ پر اعتراضات کا جائزہ لینے کی اجازت
حیدرآباد۔/10 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) ہائی کورٹ نے ووٹر لسٹ پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو 12 اکٹوبر کو فہرست رائے دہندگان کی قطعی فہرست جاری کرنے کی منظوری دے دی۔ جبکہ اسمبلی تحلیل کرنے کے خلاف دائر کردہ درخواست پر فیصلہ محفوظ کردیا۔ کانگریس کے قائد ایم ششی دھر ریڈی نے فہرست رائے دہندگان میں بے قاعدگیوں کی سپریم کورٹ سے شکایت کی تھی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہائی کورٹ سے رجوع ہوئے تھے۔ آج ہائی کورٹ نے اس مقدمہ کی سماعت کی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے فہرست رائے دہندگان پر شکوک کا اظہار کیا۔ ووٹر لسٹ پر پائے جانے والے اعتراضات کو کس طرح دور کیا جائے گا اور کونسے رہنمایانہ خطوط تیار کئے جائیں گے حلف نامہ کے ساتھ جواب داخل کرنے کی الیکشن کمیشن کو ہدایت دی۔ 12 اکٹوبر کو قطعی ووٹر لسٹ جاری کرنے کی اجازت دیتے ہوئے اسی دن تک کارروائی ملتوی کردی۔ آج جیسے ہی عدالت کی کارروائی کا آغاز ہوا، ووٹر لسٹ پر اعتراضات کی ہائی کورٹ نے سماعت دونوں فریقین کی دلیل سننے کے بعد فہرست رائے دہندگان میں ناموں کے اندراج کے قواعد پیش کرنے کی چیف جسٹس نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی اور کارروائی کو دوپہر 2:15 بجے تک ملتوی کردیا۔ کانگریس کے قائد ایم ششی دھر ریڈی کے وکیل جندیال روی شنکر نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے جو ووٹر لسٹ ویب سائیٹ پر جاری کی ہے اس کو ہی بنیاد بناکر سوال کھڑے کئے جارہے ہیں۔ ایک ہی پتہ پر ہزاروں ووٹ پائے جاتے ہیں ۔ بوگس ووٹ ووٹر لسٹ سے کیسے نکالیں گے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ فہرست رائے دہندگان سے جو حقیقی ووٹ خارج کردیئے گئے ہیں اس کو کس طرح شامل کیا جائے گا۔ دونوں فریقین کی بحث و جوابی بحث سماعت کرنے کے بعد چیف جسٹس نے ووٹر لسٹ پر شکوک ہونے کا ریمارک کیا، ووٹوں کے اندراج کے قواعد کی تفصیلات اور بوتھ سطح کی ووٹر لسٹ عدلیہ کو پیش کرنے کی الیکشن کمیشن کو ہدایت دی۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن کو 12 اکٹوبر کو قطعی ووٹر لسٹ جاری کرنے کی بھی اجازت دے دی اور آئندہ کارروائی 12 اکٹوبر تک ملتوی کردی۔ اسمبلی تحلیل کرنے کے خلاف ڈی کے ارونا اور شیشانک ریڈی کی جانب سے داخل کردہ درخواست پر فیصلہ محفوظ کردیا۔