بورڈ پر درج اور حقیقی قیمت میں عدم یکسانیت
حیدرآباد ۔ /19 جون (سیاست نیوز) ترکاریوں کی قیمت میں ہورہے اضافہ کا اثر شائد شہر میں موجود رائیتو بازاروں میں آویزاں کئے جانے والے بورڈ پر نہیں ہورہا ہے ۔ یہاں بورڈ پر موجود قیمتوں میں ترکاریاں رائیتو بازار کے حدود میں بھی دستیاب نہیں ہورہی ہیں ۔ رائیتو بازاروں کے علاوہ دیگر منڈیوں اور بازاروں میں ترکاری کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں لیکن اس کے باوجود رائیتو بازاروں کے بورڈوں پر موجود قیمتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ترکاری کی قیمتوں میں کچھ زیادہ اضافہ نہیں ہوا ہے ۔ رائیتو بازار کے بورڈ کے مطابق /19 جون کو ٹماٹر کی قیمت 19 روپئے فی کیلو تھی جبکہ بازار میں ٹماٹر 25 روپئے فی کیلو فروخت ہوا ۔ اسی طرح 18 روپئے فی کیلو بیگن کی قیمت بورڈ پر تھی اور اسی بازار میں 22 تا 25 روپئے بیگن فروخت کئے گئے ۔ بھینڈی کی قیمت رائیتو بازار کے بورڈ کے مطابق 26 روپئے فی کیلو ہے ۔ جبکہ ہری مرچی 18 تا 20 روپئے فی کیلو ، اسی طرح کیرالا اور ترائی کی قیمت 22 روپئے فی کیلو ہے ۔ حکومت کی جانب سے تعین کردہ قیمتوں میں رائیتو بازار میں بھی ترکاریوں کی عدم دستیابی کی شکایت عام ہے لیکن عام بازاروں میں ترکاری کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کا کوئی میکانزم ترکاری کی قیمت پر کنٹرول کیلئے موجود نہیں ہے ۔ دونوں شہروں میں ترکاریوں کی قیمتوں میں ہورہے اضافہ کے باعث بنیس کی پھلی کی قیمت جو کہ رائیتو بازار میں 68 روپئے ہے وہ باہر 100 روپئے تک پہونچ چکی ہے ۔ اسی طرح سیم کی پھلی 43 روپئے فی کیلو رائیتو بازار میں فروخت کیلئے دستیاب ہے جبکہ باہر 50 تا 55 روپئے فی کیلو فروخت کی جارہی ہے ۔ گنوار کی پھلی 22 روپئے فی کیلو رائیتو بازار میں فروخت کی جارہی ہے ۔ آلو کی قیمت 24 روپئے فی کیلو ہے ۔ جبکہ پیاز رائیتو بازار میں 20 روپئے فی کیلو فروخت کیلئے دستیاب ہے ۔ لیکن پیاز کی پتی کی قیمت میں بے حساب اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے ۔