رائٹر و ڈائرکٹر محمد شفیع ماسٹر کا آج رویندرا بھارتی میں

’ داستان گولکنڈہ ‘ ڈانس بیلے پروگرام، مفت داخلہ
حیدرآباد نے فنون لطیفہ میں نامور فنکاروں کو جنم دیا، موسیقی ہو کہ ڈرامہ ،شاعری ہو کہ پینٹنگ کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں ماہرانہ حیثیت رکھنے والے فنکار حیدرآباد میں نہ پیدا ہوئے ہوں۔ انہیں فنکاروں میں سے ایک محمد شفیع ماسٹر بھی شامل ہیں جن کا اصلی نام محمد شفیع الدین ہے۔ ان کو دیکھنے سے پتہ نہیں چلتا ہے کہ وہ ایک ماہر رقص ہیں۔ انہوں نے میٹرک تک تعلیم پائی اور ساتھ ساتھ رقص میں میوزک اینڈ ڈانس کالج میں B.A کی ڈگری 1963 میں کی۔کتھک ڈانس کے علاوہ بھرت ناٹیم اور فوک ڈانس اور ڈراموں میں بھی انہیں خاص دلچسپی ہے۔ ان کے کئی شاگرد بیرون ملک اور حیدرآباد میں بھی بہت مشہور ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ڈرامہ اور ڈانس کے فنکاروں کا میک اَپ بہت عمدگی سے کرتے ہیں اور انہوں نے ریڈیو اور ٹی وی میں بھی بہت کامیاب پروگرام دیئے ہیں اور کئی ڈراموں کو بیرون شہر میں بھی پیش کیا ہے اور کئی ڈرامے اور ڈانس بیلے لکھے ہیں جس میں قابل ذکر سنگ تراش، علی بابا چالیس چور، انگولی بالا ، بارہ پیاریاں، اچھوت کنیا، محمد قلی قطب شاہ، داستان گولکنڈہ، بھارت کے موسم اور کئی فلموں میں بھی ڈانس کا ڈائرکشن دیا ہے اور کئی اسکول و کالج میں ڈانس سکھاتے ہیں۔ ہر سال یاد قلی قطب شاہ مناتے ہیں اور محمد قلی قطب شاہ کا رول خود شفیع ماسٹر بہت اچھے انداز میں کرتے ہیں اور 16مئی 1995ء کو رویندرا بھارتی تھیٹر میں محمد قلی کا خواب اور داستان گولکنڈہ پیش کیا گیا جس کی ہدایت اور تحریر شفیع ماسٹر نے انجام دی ، اس پروگرام کی صدارت محبوب حسین جگر اور کے وی رمنا چاری آئی اے ایس نے کی تھی اور جناب عابد علی خاں مرحوم بانی ایڈیٹر سیاست کی نگرانی میں چارمینار کے دامن میں 1993ء میں ڈرامہ ’تمثیل مہاراجہ کشن پرشاد ‘ جس کو غلام جیلانی نے لکھا پیش کیا گیا تھا جس میں مہاراجہ کا رول محمد شفیع ماسٹر نے بہت ہی عمدہ دلچسپ اور کامیاب رول ادا کیا جس کو سامعین نے بے حد پسند کیا۔ 25مئی 2015 بروز پیر بوقت 6:30 بجے شام رویندرا بھارتی تھیٹر میں فائن آرٹس اکیڈیمی کی جانب سے شفیع ماسٹر و اشرف مہدی مرحوم کا لکھا ڈرامہ ’’ داستان گولکنڈہ ‘‘ حیدرآباد ڈانس بیلے جو قطب شاہوں کے حالات پر مبنی ہے پیش کریں گے۔ اس پروگرام کو محکمہ کلچر آندھرا پردیش اسٹیٹ بینک آف حیدرآباد ، اردو اکیڈیمی اسپانسر کررہی ہے۔ جس میں عوام کا داخلہ فری رکھا گیا ہے۔