رائٹرکے صحافیوں کی سزا کا آزادیٔ اظہار خیال کے ساتھ کوئی تعلق نہیں:سوچی

ینگون ،13ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) رائٹر کے دو صحافیوں کو سزا سنائے جانے کے کافی دنوں کے بعد میانمار کی رہنما نے اس سزا کا دفاع کیا ہے ۔میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے عالمی سطح پر مذمت کے باوجود خبر رساں ادارہ رائٹر سے وابستہ دو صحافیوں کو جیل بھیجنے کا دفاع کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ صحافی وا لون اور کیاو او کو نے قانون کو توڑا ہے اور ان کی سزا کا’ ‘آزادی اظہار کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔”امن کا نوبل انعام جیتنے والی میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی پر صحافیوں کی گرفتاری اور روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش رہنے کی وجہ سے سخت تنقید کی گئی تھی۔اقوام متحدہ کی انسانی حقوق سے متعلق ایک کمیٹی نے گذشتہ ماہ جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں میانمار پر ‘صحافیوں کے خلاف مہم شروع’ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔آنگ سان سوچی نے جمعرات کو ویتنام میں منعقدہ بین الاقوامی اقتصادیات کے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے اس معاملے پر اپنی خاموشی توڑی۔انھوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس مقدمے نے قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھا ہے اور بہت سے نقاد نے اصل میں فیصلے کو پڑھا ہی نہیں ہے ۔بی بی سی کے میانمار کی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ ’’دونوں صحافیوں کے پاس فیصلہ کے خلاف اپیل کرنے اور یہ فیصلہ کیوں غلط تھا کی نشاندہی کرنے کا پورا حق ہے‘‘ ۔دوسری جانب انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے آنگ سان سوچی کی تقریر پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ ’’سب غلط سمجھی ہیں‘‘۔ہیومن رائٹس واچ کے ڈپٹی ایشیا ڈائریکٹر فل رابرٹسن کا کہنا ہے کہ آنگ سان سوچی اس بات کو سمجھنے میں ناکام رہی ہیں کہ ‘قانون کے اصل اصول’ عدالت میں پیش کردہ ثبوت کے احترام کا مطلب ہے واضح طور پر بیان کردہ متناسب قوانین اور عدلیہ کی آزادی یا حکومت یا سکیورٹی فورسز کی جانب سے اثر انداز ہونے پر مبنی ہے ۔