٭ ملزم پر 50 قتل اور 39 اقدام قتل کے مقدمات، 13 مئی سے سماعت کا آغاز
٭ مسلمانوں کے ساتھ مشاورت،
واقعات کا اعادہ نہ ہونے پر وزیراعظم جسنڈا آرڈن کا زور
ویلنگٹن 8 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نیوزی لینڈ جسنڈا آرڈن نے پیر کے روز گزشتہ ماہ دو مساجد میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں اور 50 مسلمانوں کے شہید ہوجانے کے دلدوز واقعہ کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے ایک جج کو نامزد کیا ہے۔ اس موقع پر آرڈن نے کہاکہ یہ دیکھنے کے لئے کہ گزشتہ ماہ 15 مارچ کو دہشت گرد حملہ کیونکر رونما ہوا، ہم نے اس کی روک تھام کے لئے کیا کیا اور اب مستقبل میں ہم نیوزی لینڈ کے شہریوں کے تحفظ کیلئے کیا کرسکتے ہیں، حکومت کوئی کسر اُٹھا نہ رکھے گی۔ دی رائل کمیشن تحقیقات عدلیہ کی ایک بااختیار اور طاقتور تحقیقات ہوگی جو نیوزی لینڈ کے قوانین کے مطابق دستیاب رہے گی۔ اس تحقیقات کی قیادت سپریم کورٹ کے جج ولیم ینگ کریں گے اور اس کی مکمل رپورٹ 10 ڈسمبر تک پیش کریں گے۔ آسٹریلیائی شہری برنیٹن ٹیرنیٹ ، جس کی عمر صرف 28 سال ہے، پر 50 قتل کے معاملات درج کئے گئے ہیں جبکہ 39 معاملات اقدام قتل کے ہیں۔ آرڈن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہاکہ اس معاملہ کی سماعت کا آغاز 13 مئی سے ہوگا اور اس سماعت کے بعد اس بات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے کہ نیوزی لینڈ میں مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات رونما نہیں ہوں گے۔ تحقیقاتی عمل میں نیوزی لینڈ کے مسلمانوں کے ساتھ مشاورت بھی شامل ہے اور اس نکتے پر غور کیا جائے گا کہ نیوزی لینڈ کی کاؤنٹر ٹیررزم ایجنسیوں نے کیا اپنی تمام تر توجہ اور توانائیاں اسلام پسند دہشت گردوں کا پتہ لگانے میں جھونک دی اور دائیں بازو کی انتہا پسندی سے بالکل غافل ہوگئے؟ علاوہ ازیں تحقیقات کے دوران ملزم ٹیرنیٹ کی ماقبل حملہ سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی جن میں یہ دیکھنا ہے کہ اُس نے بندوق، گولہ بارود اور دیگر ہتھیاروں کا لائسنس کس طرح حاصل کیا؟ علاوہ ازیں ملزم نے سوشل میڈیا کا استعمال کس طرح کیا، اس پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔ اپنی قتل و غارت گری کے آغاز سے قبل ٹیرنیٹ نے ’’قتل عام‘‘ کا راست منظر فیس بُک پر بھی پیش کیا جو دراصل اُس کے ہیلمٹ پر لگے کیمرے کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یہ تحقیقات بھی کی جائے گی کہ انٹلی جنس ایجنسیوں کو ملزم کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات تھیں یا نہیں؟ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ مساجد پر حملے کے بعد نیوزی لینڈ حکومت نے ہتھیاروں کے لائسنس کے قانون کو سخت کردیا ہے اور اب نفرت انگیز بیانات اور ریمارکس سے نمٹنے نئی قانون سازی پر بھی غور و خوض کیا جارہا ہے تاکہ آن لائن انتہا پسندی پر بھی قدغن لگایا جاسکے۔