ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی کیلئے ہائیکورٹ کا حکم کالعدم

اسلام آباد ۔ 7 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) لشکرطیبہ کے دہشت گرد ذکی الرحمن لکھوی جو ممبئی دہشت گرد حملوں کے 2008ء کے اصل سازشی ذہن ہیں، جیل میں ہی مقید رہیں گے۔ عوامی سلامتی قانون کے تحت ان کی حراست کو معطل کرنے ہائیکورٹ کے حکم کو آج پاکستان سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا۔ ہائیکورٹ کے فیصلہ کے بعد ہندوستان نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ناراضگی دکھائی تھی۔ دو رکنی سپریم کورٹ بنچ نے جسٹس جواد ایس خواجہ کی زیرقیادت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کو کالعدم قرار دیا اور لشکرطیبہ کے کمانڈر لکھوی کی گرفتاری کو معطل کردینے کے فیصلہ کے خلاف حکومت کی اپیل کو سماعت کیلئے قبول کرلیا۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کو واپس ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور کہا کہ اس پر کوئی قطعی فیصلہ کرنے سے قبل ’’مکمل سماعت‘‘ کی جائے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایسا معلوم ہوتا ہیکہ عجلت میں یہ فیصلہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس خواجہ نے ریمارک کیا کہ ہائیکورٹ نے اس کیس میں حکومت کی دلیلوں کی سماعت نہیں کی ہے۔

اس نے کیس کو دوبارہ ہائیکورٹ سے رجوع کیا گیا ہے جن کوچاہئے کہ وہ حکومت کو اپنی بحث کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ ایک مشترکہ اپیل میں سکریٹری داخلہ نے حکومت کی جانب سے نمائندگی کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ اسلام آباد کے علاقہ دارالخلافہ اور اسلام آباد سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس نے ہائیکورٹ کے احکام مورخہ 24 ڈسمبر 2014ء کو برخاست کرنے کی خواہش کی تھی کیونکہ ہائیکورٹ نے لاء اینڈ آرڈر کی برقراری قانون کے تحت لکھوی کی حراست کو معطل کرنے کا حکم دیا تھا۔ اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکام پر بحث کی اور کہا کہ سپریم کورٹ کے قبل ازیں دیئے گئے بیانات اور فیصلوں کی روشنی میں ہائیکورٹ کے احکام قابل قبول نہیں ہیں اور نشاندہی کی کہ لکھوی ایک ممنوعہ تنظیم لشکرطیبہ کے رکن ہیں انہیں پبلک آرڈر کی برقراری کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔