ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کی ریاستوں کو ہدایت

نئی دہلی 17 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) افراط زر کی شرحوں میں مسلسل اضافہ کو دیکھتے ہوئے مرکز نے آج ریاستوں نے کہا کہ وہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرے اس کے علاوہ مرکز نے اناج ‘ میوہ جات اور ترکاریوں کی قیمتوں پر قابو پانے کیلئے کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے ۔ مرکز نے آلو اور پیاز کی برآمدات پر تحدیدات بھی عائد کردی ہیں۔ مئی کے مہینے میں افراط زر کی شرح گذشتہ پانچ ماہ میں سب سے زیادہ ہوگئی تھی اور 6.01 فیصد تک پہونچ گئی تھی ۔ آج مرکز نے اس جانب توجہ دیتے ہوئے وزرا اور سکریٹریز کے اجلاس میں یہ فیصلے کئے ہیں۔ یہ اجلاس وزیر فینانس ارون جیٹلی نے طلب کیا تھا ۔ دوسرے اقدامات میں مرکز نے ریاستوں سے کہا کہ وہ میوہ جات اور ترکاریوں کو زرعی پیداوار مارکٹ کمیٹی کی فہرست یس خارج کردیں جس کے نتیجہ میں کسانوں کو یہ موقع ملے گا

کہ وہ اپنی پیداوار کو کھلی مارکٹ میں راست فروخت کرسکیں۔ اس کے علاوہ پیاز کی برآمدات کو کم کرنے کیلئے اس پر 300 ڈالرس فی ٹن کی اقل ترین قیمت مقرر کردی ہے ۔ وزارت تجارت سے کہا گیا ہے کہ وہ آلو کی برآمدات کے سلسلہ میں بھی ایسا کرے ۔ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ ریاستوں کیلئے 50 لاکھ ٹن اضافی چاول ریاستوں کیلئے جاری کریگی تاکہ انہیں کھلی مارکٹ میں خط غربت سے اوپر کی قیمت 8.30 روپئے فی کیلو فروخت کیا جاسکے ۔ علاوہ ازیں ریاستوں کو راست طور پر دالیں اور خوردنی تیل بھی درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔ اجلاس میں بڑھتی ہوئی قیمتوں پر قابو پانے کے اقدامات پر غور کیا گیا ۔ اس میں وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ ‘ وزیر تغذیہ رام ولاس پاسوان ‘ وزیر تجارت نرمہا سیتارمن ‘ سکریٹری برائے وزیر اعظم نرپیندر مشرا بھی شریک تھے ۔