ذبیحہ گائو پر تبصرہ کرنے والے مسلم عالم دین کو گرفتار کرنے کا مطالبہ

نامور گیت کار جاوید اختر کا کرناٹک کے عالم دین کے خلاف فوری کارروائی پر زور
بنگلورو۔ 20 جون (سیاست ڈاٹ کام) نامور اردو شاعر اور گیت کار جاوید اختر نے آج کرناٹک کے عالم دین تنویر ہاشمی کے متنازعہ تبصرے پر کہ گائیں عیدالاضحی کے موقع پر کرناٹک میں ذبح کی جائیں گی۔ کہا کہ ان کا یہ تبصرہ غیر ذمہ دارانہ اور بغیر سونچے سمجھے دیا ہوا بیان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیولرازم کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اقلیتی طبقے کو غیر ذمہ دارانہ اور متنازعہ بیانات دینے چاہئیں جیسا کہ عالم دین تنویر ہاشمی نے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف فوری کارروائی کی جانی چاہئے۔ کیوں کہ وہ بنگلورو میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے ٹوئٹر پر جاوید اختر نے تحریر کیا کہ عالم دین نے اپنے تبصرے کے ذریعہ ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ انہوں نے یہ بصرہ ایک جلسہ عام کے ذریعہ کیا تھا جبکہ ریاستی وزیر شیوانند پاٹل بھی اس وقت موجود تھے۔ چند دن قبل شمالی کرناٹک کے ایک جلسہ میں یہ تبصرہ کیا گیا تھا۔ اس تبصرے سے کرناٹک میں ایک تنازعہ پیدا ہوگیا تھا جہاں پر ذبیحہ گائو پر امتناع عائد ہے۔ تنویر ہاشمی ہاشم پیر درگاہ وجئے پورہ کے سجادہ ہیں جو ایک مشہور درگاہ ہے۔ یہ ویڈیو فلم وائرل ہوچکی ہے۔ ریاستی وزیر نے ہاشمی کے بیان پر خاموشی اختیار کرنے کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے ہاشمی کی اردو تقریر پر کہا کہ میں آپ کو واقف کروانا چاہتا ہوں کہ دو مہینے کے عرصہ میں بقرعید منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ گائے کے نام پر یہ شیطان شرانگیزی کرنا چاہتا ہے۔ میں آپ (وزیر) سے کہنا چاہتا ہوں کہ قبل از وقت اقدام کیا جائے تاکہ گائے کی قربانی کا کوئی واقعہ نہ ہونے پائے۔ ہاشمی کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان پرکاش نے ایک خبررساں ادارہ سے کہا کہ اس کا موثر جوابی تبصرہ اختر کی جانب سے کیا گیا ہے۔ مخلوط حکومت کے نمائندے نے جس میں جے ڈی (ایس) اور کانگریس برسر اقتدار ہیں عالم دین کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنا چاہئے۔ حکومت انتہائی جانبدارانہ رویہ فرقہ وارانہ تقریروں کے سلسلہ میں جو اقلیتی فرقہ کے علمائے دین یا عوام کرتے ہیں، اختیار کیئے ہوئے ہے۔ پرکاش نے حکومت پر دہرے معیارات اختیار کرنے کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ ان کی پارٹی کے سابق رکن اسمبلی و مرکزی وزیر بی پاٹل کے سلسلہ میں ایسا رویہ کیوں اختیار نہیں کیا گیا۔