بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے کہا ہے کہ آر جے ڈی اور کانگریس نے اپنا اعتماد کہو دیا ہے، ہماری حکومت کا کام عوام کا نظر آ رہا ہے، انہوں نے انتخابات کے مدعوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی اے پورے 40سیٹوں پر اپنی جیت درج کرئے گی۔
ذات پات پرمبنی ووٹوں سے متعلق سوال پرنتیش کمارنے کہا کہ ‘آپ جس اقلیتی مسلم طبقے کی بات کررہے ہیں، اس کا اعداد وشمار دستیاب ہے۔ ہر10 سال میں مردم شماری ہوتی ہے اوریہ اعدادوشمارآتے ہیں۔ ایس سی اورایس ٹی کی بھی مردم شماری ہوچکی ہے، لیکن دیگرذات کے اعدادوشمارکے لئے کیا یہ سروے ہوئے ہیں۔ آپ یہ کس بنیاد پرکہتے ہیں کہ ایک ذات و طبقہ کی آبادی کا اعدادوشماریہ ہے۔
نتیش کمارنے کہا کہ آخری بارذات پات پرمبنی سروے سال 1931 میں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں ذات پات پرمبنی سروے ہونا چاہئے اوروزیراعظم نریندرمودی نے اس پرمثبت ردعمل بھی ظاہرکیا ہے۔ اب جو آئندہ اعدادوشمارہوگا، اس کے بعد ہی ہم سبھی طبقے کے صحیح اعدادوشمارجان پائیں گے۔ تب ہم درج فہرست ذات اوراس کے تحت آنے والی تمام طبقات کی صحیح آبادی سے واقف ہوپائیں گے۔ ابھی ہمارے پاس مسلم طبقے کے اعدادوشمارہیں، لیکن ہم دیگرطبقات کی آبادی کے بارے میں نہیں جانتے ہیں۔
حالانکہ عوامی آبادی کے فراہم شدہ اعدادوشمار میں سبھی کی رپورٹ الگ الگ اعدادوشمار دیتی ہے۔ نتیش کمارنے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اب بہارکے اقلیتی طبقہ کا اعتماد اپوزیشن کے عظیم اتحاد پرباقی بچا ہے۔
واضح رہے کہ بہارمیں ذات پات کی سیاست ہمیشہ حاوی رہی ہے۔ وہاں کی سیاست کی بنیاد ہی ذات پات پررکھی گئی تھی۔ اسی کی وجہ سے اس باراپوزیشن عظیم اتحاد نے سوشل انجینئرنگ ڈرائنگ بورڈ کی تشکیل کی ہے۔ آرجے ڈی کی قیادت والی عظیم اتحاد ای بی سی / اوبی سی اورمسلم ووٹوں پرمرکوز ہے۔ حالانکہ بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمارکی سوچ اس سے مختلف ہے۔
(سیاست نیوز)