حیدرآباد /12 فروری (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس بی ستیہ نارائنا نے چیف منسٹر کے استعفی کے سوال پر پھر ایک بار شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کا مستعفی ہونا بے فیض ثابت ہوگا۔ آج انھوں نے احاطہ اسمبلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جس دن سی ڈبلیو سی نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کی قرارداد منظور کی تھی، اس دن استعفی نہ دے کر تاریخی غلطی کی گئی ہے۔ انھوں نے احتجاجی طورپر مستعفی ہونے کی تجویز پیش کی تھی، تاہم اس وقت ہماری تجویز کو اہمیت نہیں دی گئی، لہذا اب سب کچھ ہاتھ سے نکل جانے کے بعد مستعفی ہونا بے فیض ثابت ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اگر اب استعفے دیئے جاتے ہیں تو پارٹی قیادت اور مرکزی حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا،
جب کہ مخلوعہ عہدوں پر دیگر قائدین کا تقرر ہو جائے گا اور یہ الزام عائد کیا جائے گا کہ عین انتخابات سے قبل ذمہ داریوں سے فرار حاصل کی گئی ہے۔ پارلیمنٹ میں تلنگانہ اور سیما۔ آندھرا کے ارکان پارلیمنٹ کے رویہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کانگریس ہائی کمان نے ریاست کی تقسیم کے مسئلہ پر کانگریس قائدین کو اظہار خیال کی آزادی دی ہے، لہذا تلنگانہ کے ارکان پارلیمنٹ تلنگانہ کی اور سیما۔ آندھرا کے ارکان متحدہ آندھرا کی تائید کر رہے ہیں۔