دیہی روزمرہ زندگی مہنگی ، شہر میں ضروریات زندگی کے اخراجات کم

زلفین ریسرچ کا معاشی سروے میں دونوں علاقوں کے جائزہ میں انکشاف
حیدرآباد ۔ 16 اپریل ۔ ( سیاست نیوز) دیہی علاقوں کے متعلق سستی زندگی کا نظریہ غلط ثابت ہوتاجارہاہے ۔ شہری علاقوں میں ضروریات زندگی و اخراجات کم ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں زندگی گذارنے کیلئے زائد اخراجات ہورہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں ہوئے ایک معاشی سروے کے مطابق دیہی علاقوں میں تناسب کے اعتبار سے اخراجات زیادہ ہیں ۔ شہری علاقوں میں زندگی گذارنے کیلئے سال گزشتہ 4.21 معاشی انحطاط کا تخمینہ لگایا گیا تھا جبکہ دیہی علاقوں میں یہ انحطاط 6.29 تک پہونچ چکا تھا ۔ زیفین ریسرچ کے مطابق شہری علاقوں کے معیار زندگی اونچا ہونے کے باوجود انھیں روزمرہ کی اشیائے ضروریات بہ آسانی سستے داموں میں دستیاب ہوجاتی ہیں ۔ کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق شہری علاقوں میں اشیاء کی خریداری کیلئے ٹھوک تاجرین سے اشیاء کے حصول کا رجحان زیادہ ہے ۔ اشیائے خوردونوش کے علاوہ دیگر روزآنہ استعمال ہونے والی اشیاء میں جو چیزیں آتی ہیں وہ شہری علاقوں میں بہ آسانی ٹھوک دستیاب ہوسکتی ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں یہ سہولت نہ حاصل ہونے کے سبب دیہی علاقوں میں بسنے والوں کی زندگی شہری علاقوں میں بسنے والوں سے مہنگی تصور کی جارہی ہے ۔ شہری علاقوں کے معاملات میں بینکوں کے دخل کے علاوہ ، تعلیم اور گاڑیوں کی خریداری میں بینکوں کی جانب سے فراہم کئے جانے والے قرضہ جات کے سبب انحطاط میں کچھ اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے لیکن مجموعی اعتبار سے شہری زندگی دیہی زندگی سے سستی نظر آرہی ہے چونکہ ٹھوک تجارت شہروں میں اثرات مثبت ثابت ہورہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں بڑھ رہی کاروباری مسابقت کے سبب بھی عوام کو اس کے فائدے حاصل ہورہے ہیںجبکہ دیہی علاقوں میں کاروبار میں مسابقت کے رجحانات کافی کم دیکھے جاتے ہیں۔ ارزاں فروشی کے متعلق ریاست تلنگانہ کے شہری علاقوں میں گزشتہ جنوری اور فبروری کے دوران گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔ اسی طرح دیہی علاقوں میں گراوٹ کے بجائے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس سے اس بات کااندازہ ہوتا ہے کہ دیہی علاقوں کی زندگی بتدریج مہنگی ہوتی جارہی ہے اور شہری علاقوں میں رہنے والوں کو کاروباری مسابقت کے رجحان کے سبب اشیائے خوردونوش کے علاوہ دیگر اشیائے ضروریات بہ آسانی کم قیمتوں میں دستیاب ہونے لگے ہیں۔