دیوی پرساد سرکاری ملازمت سے سبکدوش، ایم ایل سی کیلئے مقابلہ کا عزم

ٹی آر ایس میں نام کو قطعیت، رسمی اعلان باقی، چیف منسٹر کے سی آر سے اظہارتشکر
حیدرآباد۔/21فبروری، ( سیاست نیوز) حج ہاوز میں واقع احمد شریف لائبریری کی تزئین نو اور اسے باقاعدہ لائبریری کی شکل دینے کیلئے اسپیشل آفیسر وقف بورڈ جناب جلال الدین اکبر نے خصوصی دلچسپی دکھائی ہے۔ لائبریری کی زبوں حالی کے بارے میں روز نامہ ’سیاست‘ میں شائع شدہ رپورٹ کے بعد جناب جلال الدین اکبر نے نہ صرف لائبریری کا معائنہ کیا بلکہ اسے عصری بنانے اور لائبریرین کے تقرر کی مساعی کی۔ لائبریری کی تزئین نو اور وہاں موجود نادر و نایاب کتابوں کو عوام اور ریسرچ اسکالرس کے مطالعہ کیلئے دستیاب کرنے کے اقدامات کئے گئے۔ انہوں نے کہا جناب احمد شریف مرحوم کی جانب سے جمع کردہ اردو، عربی اور فارسی کی نادر کتابوں کے تحفظ کے اقدامات کئے گئے اور تمام کتابوں کے ناموں کے ساتھ فہرست تیار کرتے ہوئے متعلقہ الماریوں پر آویزاں کی گئیں تاکہ ریسرچ اسکالرس اور دلچسپی رکھنے والے افراد اپنی پسند کی کتابیں مطالعہ کیلئے حاصل کرسکیں۔ رزاق منزل منشائے وقف کے تحت یہ لائبریری قائم ہے لیکن اس پر وقف بورڈ کے حکام نے کوئی توجہ نہیں دی۔ عمارت کے ایک غیر اہم گوشہ میں لائبریری رکھی گئی تھی جہاں نادر و نایاب کتابیں عدم تحفظ کے باعث دیمک کی غذا بن رہی تھیں۔ لائبریری میں اخبارات اور میگزینس بھی ندارد تھے۔ ایک ملازم کو نگرانی کیلئے رکھا گیا جو اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق لائبریری کو کھولنے اور بند کرنے کا مجاز تھا۔ ’سیاست‘ کی توجہ دہانی کے بعد جناب جلال الدین اکبر نے نہ صرف کتابوں کے تحفظ کے اقدامات کئے بلکہ ہر شیلف میں موجود کتابوں کی تفصیلات آویزاں کی گئیں۔ انہوں نے موجودہ ملازم کے علاوہ ایک اور ملازم کو تعینات کیا ہے۔ بہت جلد باقاعدہ لائبریرین کا تقرر کیا جائے گا اور کمپیوٹر کی تنصیب کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ جناب جلال الدین اکبر نے تزئین نو اور لائبریری کی نئی ترتیب کے بعد رسمی طور پر افتتاح انجام دیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام کتابیں نہ صرف قارئین کے مطالعہ کیلئے دستیاب رہیں گی بلکہ اگر کوئی مخصوص صفحات کی زیراکس کاپی چاہیں تو انہیں فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مزید اخبارات اور میگزینس بھی مطالعہ کیلئے موجود رہیں گے۔ ممکن ہو تو حج ہاوز کے کسی اہم حصہ میں لائبریری منتقل کی جائے گی۔ انہوں نے عہدیداروں کو مشورہ دیا کہ وہ نبی خانہ مولوی اکبر اور روضۃ الحدیث مادنا پیٹ میں موجود عربی، فارسی اور اردو کی نادر کتابوں کے ذخیرہ کو اس لائبریری میں منتقل کریں تاکہ یہ وسیع تر لائبریری کی شکل اختیار کرسکے۔انہوں نے لائبریری کی نگہداشت کا کام اردو اکیڈیمی کے حوالے کرنے کی تجویز پیش کی تھی تاہم وقف بورڈ کے عہدیداروں نے اس کی مخالفت کی۔ جس کے بعد وقف بورڈ کے خرچ سے لائبریری کو ترقی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس لائبریری میں فی الوقت دو اردو اخبارات کے علاوہ ایک انگریزی اور تلگو اخبار کے سوا دوسرے اخبارات اور میگزین کی خریداری نہیں کی جاتی۔