حج ہاوز میں ازدواجی اختلافات کی یکسوئی کیلئے کونسلنگ سنٹر کا افتتاح ، مختلف شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جولائی (سیاست نیوز) اقلیتی طبقات میں شادی ، طلاق اور دیگر ازدواجی اختلافات کی یکسوئی کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود نے حج ہاؤز میں کونسلنگ سنٹر قائم کیا ہے ۔ اس سنٹر میں مختلف شعبوں کے ماہرین ہر ماہ میں دو مرتبہ کونسلنگ کیلئے دستیاب رہیں گے۔ حج ہاؤز کے چوتھے فلور پر کونسلنگ سنٹر کیلئے خصوصی دفتر الاٹ کیا گیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج اس کونسلنگ سنٹر کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں بالخصوص مسلم خاندانوں میں بڑھتے ازدواجی تنازعات کی یکسوئی کیلئے حکومت نے اس سنٹر کے قیام کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلہ میں مختلف گوشوں سے نمائندگیاں وصول ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ازدواجی زندگی کے تنازعات برسوں تک عدالتی کشاکش کا شکار ہیں جس کے باعث خاندان کے بچوں پر اس کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ بعض خواتین نے ان سے شکایت کی کہ وہ گھریلو تنازعات کے سبب کئی برسوں سے پریشان ہے اور بچوں کی کفالت کے موقف میں نہیں۔ اس سنگین مسئلہ کی یکسوئی اور عدالتوں کے باہر تنازعات کی یکسوئی کو یقینی بنانے کیلئے حیدرآباد میں کونسلنگ سنٹر قائم کیا جارہا ہے ۔ بہت جلد اضلاع میں بھی اس طرح کے سنٹرس قائم کئے جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ کونسلنگ سنٹر میں رہنمائی کیلئے 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور حکومت اس کمیٹی کو کچھ اختیارات تفویض کرے گی جس کے تحت وہ فریقین کو نوٹس جاری کرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ویمنس پولیس اسٹیشن میں موجود شکایات کو کونسلنگ سنٹر سے رجوع کرنے کیلئے کمشنر پولیس سے بات چیت کی جائے گی ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ ہر ضلع میں تمام اقلیتی بہبود کے دفاتر کو ایک مقام پر کرنے کیلئے خصوصی عمارت کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جاریہ سال عمارتوں کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا اور اندرون تعمیر مکمل کرلی جائے گی ۔ محمد محمود علی نے مکہ مکرمہ میں واقع حیدرآبادی رباط میں عازمین حج کے قیام کے تنازعہ کی یکسوئی میں تعاون پر اوقاف کمیٹی نظام سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ 597 عازمین کیلئے تین عمارتیں حاصل کی گئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے عازمین کیلئے قیام کے علاوہ طعام ، لانڈری اور دیگر سہولتیں مفت فراہم کی جائیں گی۔ اس سہولت سے فی عازم 46,000 روپئے کی بچت ہوگی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت ہر ضلع میں اقامتی اسکول اور ہاسٹل کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے اور حالیہ کابینی اجلاس میں اس تجویز کو منظوری دیدی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کی پری میٹرک اسکالرشپ سے محروم اقلیتی طلبہ کو ریاستی حکومت کی جانب سے اسکالرشپ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ حکومت نے عوام سے جو وعدے کئے ہیں، انہیں بہرحال پورا کیاجائے گا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمرجلیل نے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ازدواجی تنازعات کی یکسوئی کیلئے عدالتوں کے بجائے کونسلنگ سنٹر سے رجوع ہوں۔ 7 رکنی کمیٹی کے صدرنشین ریٹائرڈ جج ای اسماعیل نے کہاکہ دینی معلومات کی کمی کے نتیجہ میں طلاق کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 50 تا 60 فیصد فیملی کورٹ کے مقدمات ، مسلم خاندانوں سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے خاندانی تنازعات کی یکسوئی کیلئے باہم مشاورت اور صلح صفائی کا حکم دیا ہے۔ تقریب میں کمیٹی کے ارکان شفیق الرحمن مہاجر ، محسنہ پروین ، مفتی صادق محی الدین ، محمد رفیع الدین ، صبیحہ صدیقی اور قاضی اکرام اللہ موجود تھے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود ایم جے اکبر نے خیرمقدم کیا جبکہ اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے شکریہ ادا کیا۔