نئی دہلی ۔ 17 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا کو آج مطلع کیا گیا کہ دینی مدارس میں دہشت گردی کی تربیت دیئے جانے کے بارے میں حکومت کے پاس کوئی اطلاعات نہیں ہیں لیکن مغربی بنگال میں بنگلہ دیشی تارکین وطن کے زیرکنٹرول تین دینی مدارس میں مذہبی انتہاء پسندی کا پرچار کیا جارہا ہے۔ مملکتی وزیرداخلہ ہری بھائی پاراتھی بھائی چودھری نے کہا ہیکہ حکومت کو بشمول دینی مدارس مختلف اداروں کے بارے میں آزاد ذرائع اور خود سرکاری انٹلیجنس ایجنسیوں سے یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ انہوں نے ایک تحریری سوال پر جواب دیا کہ ’’حکومت کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ دینی مدارس عام طور پر دہشت گردی کی تربیت میں ملوث ہیں۔ تاہم بردوان دھماکہ کیس کی تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا ہیکہ غیرقانونی بنگلہ دیشی مہاجرین کے زیرکنٹرول تین دینی مدرسوں میں مذہبی انتہاء پسندی کا پرچار کیا جارہا ہے‘‘۔
چودھری نے ایک اور سوال پر جواب دیا کہ دستیاب معلومات کے مطالبہ راجستھان کے سرحدی علاقوں بالخصوص ضلع بارمیر میں دینی مدارس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم مملکتی وزیرداخلہ نے کہا کہ راجستھان کے سرحدی علاقوں میں واقع دینی مدارس کے ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں لیکن ضلع جیسلمیر میں دینی مدارس سے منسلک ایک شخص کو قانون کو قانون سرکاری راز 2012ء کے تحت جرائم کے ضمن میں گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال پر کڑی نظر رکھنے کیلئے حکومت نے ضروری میکانزم کو متحرک کردیا ہے۔ انٹلیجنس اور سیکوریٹی ایجنسیوں کو ہدایت کی گئی ہیکہ وہ تمام مشتبہ سرگرمیوں بالخصوص سرحدی علاقوں پر کڑی نظر رکھیں۔