کوہیما 16 مارچ ( پی ٹی آئی ) گورنر ناگالینڈ پی بی اچاریہ نے آج کہا کہ 5 مارچ کو دیما پور میں ایک قیدی کو باہر نکال کر ہلاک کردئے جانے کا جو واقعہ پیش آیا تھا اس کے پس پردہ محرک در اصل ریاست میں بنگلہ دیشیوں اور بیرونی افراد کے داخلہ کے خلاف اشتعال تھا ۔ اچاریہ نے راج بھون میں آج شام ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس میں مذہب کا کوئی سوال ہی نہیں ہے ۔ جس انداز سے یہ تحریک آگے بڑھی ہے اور جس انداز سے واقعات پیش آئے ہیں ‘ ہوسکتا ہے کہ وہ جذبہ صحیح تھا لیکن حالات غلط ہوگئے اور یہ تاثر دیا گیا کہ ناگلینڈ مسلمانوں کے یا پھر قبائلی افراد کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں حکومت کی ناکامی واضح ہوئی ہے اور چیف منسٹر نے اس کو قبول بھی کیا ہے ۔ انہوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ اس تعلق سے مناسب اقدامات کئے جائیں گے ۔ گورنر نے بتایا کہ انہوں نے تمام ایجنسیوں کو بھی اس تعلق سے ضروری ہدایات دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے جس میں کئی باتیں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی حقیقت سامنے آ رہی ہے کہ متوفی نے کوئی عصمت ریزی نہیں کی تھی بلکہ یہ دو افراد کی رضا سے کیا گیا عمل تھا ۔ گورنر نے کہا کہ اگر کسی کو یہ اندیشہ ہو کہ یہاں بنگلہ دیشیوں کی در اندازی ہو رہی ہے اور ہماری آبادی پر ان کا غلبہ ہو رہا ہے تو یہ واجبی تشویش ہے اور اگر ایسی فکر لاحق نہیں ہوتی ہے تو قومیت کا جذبہ دم توڑ دیتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشیوں کی در اندازی کا مسئلہ صرف ناگالینڈ کا نہیں ہے بلکہ آسام کو بھی اس سے سنگین خطرہ ہے ۔ آٹھ ریاستیں اس سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ شمال مشرقی ریاستوں کیلئے بنگلہ دیشیوں اور بیرونی افراد کی در اندازی ایک سنگین مسئلہ ہے اور اب یہ مسئلہ ممبئی تک پہونچ گیا ہے جہاں ہزاروں افراد پہونچ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کہ بنگلہ دیشیوں کے در آنے کو روکا جانا چاہئے گورنر نے کہا کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا ناقابل قبول ہے اور اس سارے مسئلہ سے جس انداز میں نمٹا گیا وہ بھی ناقابل قبول ہے ۔ انہوں نے سماج کے سبھی گوشوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات کا تدارک کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ سماج کو اس تعلق سے با شعور ہونے کی شدید ضرورت ہے ۔