دیماپور کا واقعہ غلط لیکن دور رس نتائج کا حامل

نئی دہلی۔ 18 ۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) صدرنشین قومی کمیشن برائے درج فہرست ذاتوں (ایس سی) اور کانگریس رکن پارلیمنٹ پی ایل پونیا نے آج دیما پور میں ایک نوجوان کو عصمت ریزی کا الزام میں موت کے گھاٹ اتارنے کے واقعہ کی مذمت کی ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے واقعات خواتین کے خلاف جرم کرنے والوں میں نفسیاتی خوف پیدا کردیتے ہیں۔ انہوں نے دلتوں اور قبائیلوں متحد اور منظم ہوجانے کا مشورہ دیا تاکہ ان کی خواتین کے ساتھ کوئی بدسلوکی کرنے کی جرات نہ کرسکے۔ پونیا نے یہاں ایک تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی یہ دیرینہ خواہش تھی کہ دونوں برادریاں (ایس سی ، ایس ٹی) مضبوط اور مستحکم بن کر ابھریں تاکہ وہ مساوی حقوق حاصل کرسکیں اور ان کے خلاف امتیازات کا خاتمہ ہوسکے ۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب چاہتے تھے کہ ہم منظم اور طاقتور بن جائیں اور ہماری اس طاقت سے وہ لوگ خوفزدہ ہوجائیں جن کی خواتین کے ساتھ بدسلوکی کرنے پر دہشت طاری کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیماپور کا واقعہ اگرچیکہ غلط تطا لیکن بعض اوقات یہ بہتر ثابت ہوتا ہے ۔ اس واقعہ کے بعد مجرمین میں نفسیاتی خوف پیدا ہوگیا ہے اور خواتین کے خلاف بدسلوکی ہمت نہیں کرسکتے۔