بنگلورو۔ 18 فروری (سیاست ڈاٹ کام) یہ اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہ ہندوستان صنعت ِ دفاع کے لئے ایک بڑے عالمی مرکز کے طور پر ابھرے گا ، وزیراعظم نریندر مودی نے آج دیسی کے ساتھ ساتھ بیرونی عناصر کے لئے بھی سازگار تجارتی ماحول کا وعدہ کیا ، جس میں امتیاز سے پاک ٹیکس سسٹم شامل ہے۔ ’ایرو انڈیا شو ‘ کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ملک کو اپنی دفاعی تیاری میں اضافہ کرنے اور اپنی افواج کو عصری بنانے کی ضرورت ہے جس کا سبب وہ سکیورٹی چیلنجس ہیں جو اظہرمن الشمس ہیں اور انہوں نے بیرونی کمپنیوں کو دعوت دی کہ محض بیوپاری بنے رہنے کے بجائے ہندوستان کے کلیدی شراکت دار بھی بن جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی توجہ درآمدات کو گھٹانے اور دیسی صنعت ِ دفاع کو فروغ دینے پر مرکوز ہے جس میں اس مشن کو اہمیت دی جائے گی کہ ہمارا ساز و سامان ہمارے ملک میں ہی تیار کیا جائے۔ ’’ہم ایسی صنعت فروغ دیں گے جس میں ہر کسی کے لئے گنجائش ہوگی چاہے وہ پبلک سیکٹر ہو ، خانگی شعبہ ہو یا بیرونی کمپنیاں‘‘۔ وزیراعظم نے اس کے ساتھ مزید کہا کہ حکومت کا ارادہ حرکیاتی صنعت ِ دفاع کا فروغ ہے۔ مودی نے کہا کہ طاقتور ڈیفنس انڈسٹری سے نہ صرف ملک زیادہ سلامت رہے گا بلکہ زیادہ خوشحالی بھی آئے گی۔ وہ یہاں شہر کے مضافات میں آئی اے ایف کے ییلاہانکا ہوائی اڈے پر ایشیا کے بڑے ایر شو کے موقع پر مخاطب تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں لازمی طور پر یقینی بنانا چاہئے کہ ہمارا ٹیکس کاری نظام درآمدات کے معاملے میں دیسی تیاری کے خلاف امتیاز سے دوچار نہ ہونے پائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان کی ڈیفنس انڈسٹری اس وقت زیادہ کامیاب ہوگی بشرطیکہ ہم مینوفیکچرنگ سیکٹر کو ملک میں پھلنے پھولنے کا موقع دیں۔ درآمدات کو گھٹانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مودی نے کہا کہ اگر ہم آئندہ پانچ سال میں دیسی حصولیابی کے تناسب کو موجودہ 40 فیصد سے 70 فیصد تک بڑھا سکیں تو ہم ہماری ڈیفنس انڈسٹری میں پیداوار کو دُگنا کرپائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ درآمدات میں 20 تا 25 فیصد کٹوتی بھی ہوجاتی ہے تو اس سے ملک میں راست طور پر ایک لاکھ تا ایک لاکھ 20 ہزار نہایت ہی ہنرمند افراد کے لئے اضافی نوکریاں پیدا ہوجائیں گی۔ مودی نے ملک کے سائنس دانوں ، سپاہیوں ، مختلف ماہرین کی خدمات سے زیادہ سے زیادہ استفادہ پر بھی زور دیا۔