نئی دہلی ۔ 4 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اقلیتی ووٹوں کو تقسیم کرنے کیلئے منصوبہ بنا چکی ہے۔ اگر وہ اس منصوبہ میں کامیاب ہوجاتی ہے تو 7 فبروری کو ہونے والے انتخابات کئی قائدین کیلئے حیرت انگیز ہوسکتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی اور کانگریس ہوسکتا ہیکہ مسلم ووٹس حاصل کرنے کی بھرپور کوشش اور دعوے کررہی ہیں لیکن بی جے پی کو امید ہیکہ وہ ترقی کے اپنے ایجنڈہ کی بنیاد پر مسلمانوں کے قابل لحاظ ووٹس حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ بی جے پی کی تمام نظریں مسلم ووٹ تقسیم کرنے پر مرکوز ہوگئی ہیں۔ بی جے پی ذرائع کا کہنا ہیکہ اس کے امیدوار کم از کم 3 تا 4 مسلم اکثریتی علاقوں میں شاندار مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں سلیم پور، صدر بازار، لکشمی نگر اور ترلوک پوری کے نام لئے جارہے ہیں۔ بی جے پی قائدین کا کہنا ہیکہ پارٹی کو وزیراعظم نریندر مودی کے ترقیاتی ایجنڈہ کا فائدہ ضرور حاصل ہوگا کیونکہ مودی نے گذشتہ 8 ماہ کے دوران جو بھی انتخابات ہوئے ان میں بی جے پی کو کامیابی دلائی ہے اور اس کامیابی کیلئے مودی حکومت کے ترقیاتی ایجنڈہ کا اہم ول ہے۔ مسلم ووٹ تقسیم کرنے کی حکمت عملی کے ایک حصہ کے طور پر بی جے پی نے 9 مسلم اکثریتی حلقوں میں سے 8 پر ہندو امیدواروں کو ٹھہرایا ہے۔
ان میں سلیم پور، مصطفی آباد، اوکھلا، صدر بازار، بالی مارن، چاندنی چوک، ترلوک پوری اور لکشمی نگر شامل ہیں۔ یہ ایسے حلقہ ہیں جہاں مسلم رائے دہندوں کی تعداد 25 تا 85 فیصد ہے۔ مٹیا محل اور سلیم پور میں بالترتیب 80 اور 85 فیصد مسلم رائے دہندے ہیں۔ مٹیا محل سے بی جے پی نے انجمن دہلوی کو اپنی امیدوار بنایا ہے۔ کانگریس کے ٹکٹ پر شعیب اقبال مقابلہ کررہے ہیں۔ اروند کجریوال کی عام آدمی پارٹی کی طرف سے عاصم احمد خاں مقابلہ کررہے ہیں۔ 2013ء کے اسمبلی انتخابات میں اس حلقہ سے جنتادل (یو) نے کامیابی حاصل کی تھی۔ اوکھلا میں جہاں مسلم رائے دہندوں کی تعداد 60/65 فیصد پائی جاتی ہے۔ بی جے پی نے برہما سنگھ برہوری کو اپنے امیدوار کی حقیقت سے پیش کیا ہے۔ کانگریس نے آصف محمد خاں اور آپ نے امانت اللہ خاں کو ٹکٹ دیا ہے۔ 2013ء کے انتخابات میں اس حلقہ سے کانگریس نے کامیابی حاصل کی تھی۔ حلقہ اسمبلی سلیم پور میں 80 فیصد مسلمان ہیں لیکن بی جے پی نے کسی مسلم امیدوار کو امیدوار بنانے کی بجائے سنجے جین کو ٹکٹ دیا ہے۔ متین احمد کانگریس اور حاجی اشراق آپ کے امیدوار ہیں۔ 2013ء کے اسمبلی انتخابات میں سلیم پور سے کانگریس نے کامیابی حاصل کی تھی۔ بلی مارن میں 60 فیصد مسلم رائے دہندے ہیں لیکن بی جے پی نے اس امید کے ساتھ شیام سور وال کو اپنا امیدوار بنایا ہے کہ وہاں کانگریس کے ہارون یوسف اور آپ کے عمران حسین کے درمیان مسلم ووٹ تقسیم ہوجائیں گے۔ مصطفی آباد حلقہ میں مسلم رائے دہندوں کی تعداد 50-55 فیصلہ ہے۔ بی جے پی کے جگدیش پردھان، کانگریس کے حسن احمد اور آپ کے حاجی یونس سے مقابلہ کریں گے۔ گذشتہ انتخابات میں اس حلقہ سے کانگریس کو کامیابی ملی تھی۔ اب چلتے ہیں چاندی چوک حلقہ میں یہاں 30 فیصد مسلم رائے دہندے ہیں۔ بی جے پی نے سمن کمار گپتا کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ کانگریس نے پرہلاد ساہنی اور عام آدمی پارٹی نے الکا لامبا کو مقابلہ میں اتارا ہے۔
ترلوک پوری میں 30 فیصد مسلم رائے دہندے ہیں۔ بی جے پی نے اس حلقہ سے کرن ویدید کانگریس نے برہما پال، عام آدمی پارٹی نے راجو دھینگن کو میدان میں اتارا ہے۔ صدر بازار حلقہ میں جہاں مسلم رائے دہندوں کی تعداد 25-30 فیصد ہے۔ پروین جین بی جے پی کے امیدوار ہیں۔ اجے ماکن کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کررہے ہیں۔ سوادت کو آپ نے نامزد کیا ہے۔ گذشتہ انتخابات میں اس حلقہ سے آپ نے کامیابی حاصل کی تھی۔ لکشمی نگر میں 25 فیصد مسلم رائے دہندے ہیں۔ بی جے پی کی بی بی تیاگی کو پارٹی نے اس مقصد سے اتار کہ وہاں کانگریس کی اے کے والیا اور عام آدمی پارٹی کے نتن تیاگی میں مسلم ووٹ منقسم ہوجائیں گے جس سے بی جے پی امیدوار کی کامیابی یقینی ہوگی۔ بہرحال بی جے پی مسلم اکثریتی حلقوں میں اپنے امیدواروں کو کامیاب بنانے کیلئے مسلم ووٹوں کی تقسیم کی حکمت عملی پر کام کررہی ہے۔ اگر مسلمان متحدہ طور پر کانگریس یا عام آدمی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں تو اس سے مودی اور امیت شاہ کی جوڑی نمبر ون کے ساتھ ساتھ بی جے پی کا بھی زوال شروع ہوجائے گا۔