دہلی میں مسلم رائے دہندوں کے اتحاد سے ہندو طاقتیں بے چین

ووٹوں کو تقسیم کرنے کی سازش ، مذہبی رہنماؤں و سیاسی قائدین کے لیے لمحہ فکر
حیدرآباد ۔ 16 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : مسلم انتخابی اتحاد کو توڑنے کے لیے ملک میں ایک نئی سازش پر عمل کیا جارہا ہے ۔ دہلی اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کا اتحاد اور ایک پارٹی کو اپنا موقف پیش کرنا اب غیر جمہوری طاقتوں کے لیے کھٹکنے لگا ہے جہاں دہلی اسمبلی نتائج اور اس کے تجزیہ کی باتیں سامنے آرہی ہیں ۔ وہیں مسلمانوں کے متحدہ موقف پر کافی باتیں ہورہی ہیں ۔ ملک کی برسر اقتدار جماعت بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں بالخصوص آر ایس ایس پر الزام ہے کہ وہ منظم سازش کے تحت پولنگ بوتھ پر مسلمانوں کو بانٹنا چاہتی ہے اور اس سازش کے لیے ان کی ساری مشنری اب مسلمانوں کی ذہن سازی میں جٹ جائے گی ۔ ایک منظم سازش کے تحت بین الاقوامی مخالف مسلم فارمولہ کو ہندوستان میں عمل کیا جائے گا اور ایک نئے انداز سے مسلمانوں کو صفوں میں بانٹنے کا کام کیا جارہا ہے ؟ چونکہ ایک دانشور کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں کسی بھی مسئلہ پر مسلمان خواہ کوئی مسلک اور فرقہ کا کیوں نہ ہو ایک محاذ پر مخالف کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ تاہم اب انہیں ایک محاذ نہیں بلکہ خود کشی محاذوں کی تشکیل کا موقع دیا جائے گا اور مسلکی رنجش ہی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر مسلمانوں کو بہ آسانی تقسیم کیا جاسکتا ہے اور اس فارمولہ کو روبہ عمل لانے کی کوشش کا بی جے پی نے آغاز کردیا ہے ۔ دہلی اسمبلی انتخابات میں ناکامی کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار بی جے پی اور سنگھ پریوار اب اس خطرناک سازش کو اپنے ناپاک عزائم کے لیے استعمال کرے گا ۔ دہلی اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد علاقائی اور سیکولر جماعتوں نے جہاں نتائج کا خیر مقدم کیا ہے وہیں دوسری جانب انہیں مسلم ووٹ کی اہمیت کا بھی کافی حد تک انداز ہوچکا ہے ۔ اقتدار کے خواہش مند اور سیکولرازم کانعرہ دینے والوں کے لیے تو مسلم ووٹ انتظار کرتے رہتے ہیں لیکن اب مخالف مسلم پارٹی مسلمانوں کو متحدہ طور پر اپنے ووٹ کا استعمال کرنے سے روکنا چاہتی ہے اور ایسی پارٹیوں کے لیے سب سے آسان طریقہ مسلمانوں کو مذہبی صفوں میں بانٹنا اور ان کے درمیان مسلکی اختلافات کو ہوا دینا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس سازش پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے ۔ پارلیمانی انتخابات میں مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت اقتدار پر چلی گئی ۔ تاہم مسلمانوں کے اتحاد نے دہلی انتخابات میں یہ ثابت کردیا کہ وہ فیصلہ کسی کے بھی حق میں کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ ان حالات کے مد نظر ذرائع کا کہنا ہے کہ سنگھ نہیں چاہتا ہے کہ مسلمان خوف کے عالم میں آکر کسی ایک جماعت کو اپنا موقف پیش کریں بلکہ بے خوف ہو کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں اور موقف میں منقسیم ہوجائیں چونکہ مسلمان متحد ہو کر اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں تو دہلی جیسے حالات کا ہر ریاست میں سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ 20 سال قبل ایل کے اڈوانی نے کہا تھا کہ مسلمانوں کے ووٹ کی بی جے پی کو ضرورت نہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان کے ووٹ کسی ایک کے حق میں نہ جائیں ۔ 20 سال کی محنت کا حالیہ پارلیمانی انتخابات میں نتیجہ سامنے آیا بلکہ اس کے برعکس جب مسلمانوں نے متحدہ ہو کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تو حالات کس طرح پیدا ہوگئے ۔ نتیجہ ملک کے سامنے ہے ۔ ایک دانشور کا کہنا ہے کہ اگر مسلمان ملک میں بغیر سیاسی طاقت کے اپنے وجود کو ثابت کرنا چاہتے ہیں تو یہ ممکن نہیں ہے بلکہ ناممکن تو یہ ہے کہ مسلمان اگر سیاسی فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتے تو پھر وہ اپنے وجود کو کیا اپنی شناخت کو بھی برقرار رکھنے میں ناکام ہوجائیں گے ۔ لہذا سیاسی طاقت بننے سے قبل سیاست پر اثر انداز ہونا ضروری اور وقت کا اہم تقاضہ ہے ۔ دہلی اسمبلی چناؤ میں زعفرانی سازش ایک حلقہ میں کامیاب ہوگی ۔ جہاں دو مسلمانوں کے درمیان ایک بی جے پی کا نمائندہ کامیاب ہوگیا ۔ جیسا کہ اترپردیش کے پارلیمانی حلقوں میں 6 تا 8 حلقوں میں ایسا ہی ہوا جیسا کہ بی جے پی چاہتی تھی ۔ اب ایسی اترپردیش میں اور بہار میں انتخابات کرنے والے ہیں اور ملت کے مذہبی رہنماؤں اور قائدین پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اتحاد کے لیے کوشش کریں بلکہ سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے دہلی کے مسلمانوں کی طرز پر کام کریں ۔۔