دہلی میں عام آدمی پارٹی کی مقبولیت ،بی جے پی فکرمند

نئی دہلی۔ 5 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی میں اسمبلی انتخابات کیلئے زبردست سرگرمیاں آج ختم ہوگئیں اور 7 فروری کو رائے دہی کی تیاریاں پوری کرلی گئی ہیں۔ یہ انتخابات وزیراعظم نریندر مودی کیلئے ’’ریفرنڈم‘‘ سمجھے جارہے ہیں لیکن بی جے پی قائدین نے اس نقطہ نظر کو مسترد کردیا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران بی جے پی نے وزیراعظم نریندر مودی کی سحر انگیز شخصیت کو پیش کرتے ہوئے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کجریوال کو نشانہ بنایا کیونکہ دارالحکومت میں اصل مقابلہ ان دو جماعتوں میں ہی ہے۔ عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کجریوال نے جوابی مہم کے ذریعہ غیرمعمولی عوامی تائید و حمایت حاصل کی جس کا اندازہ اس بات سے ہوسکتا ہے کہ متعدد اوپینین پولس میں عام آدمی پارٹی کو واضح اکثریت کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔

کجریوال نے باوقار نئی دہلی حلقہ میں روڈ شو منعقد کئے جبکہ کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے سلطان پور ماجرا میں پارٹی کیلئے مہم چلائی۔ آج مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین بشمول صدر بی جے پی امیت شاہ نے تقریباً 100 ریالیوں سے خطاب کیا۔ بی جے پی گزشتہ 16 سال سے دہلی میں اقتدار سے دُور ہے اور اس نے سابق ٹیم انا رکن کرن بیدی کو پارٹی میں شامل کرتے ہوئے چیف منسٹر امیدوار کے طور پر پیش کیا۔ بی جے پی کی یہ حکمت عملی خود اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہوئی کیونکہ پارٹی قائدین اور کیڈر میں برہمی پیدا ہوگئی تھی۔ بی جے پی کے لائحہ عمل کو ایک طرف اندرون پارٹی نقصان پہونچا، دوسری طرف کجریوال زیرقیادت عام آدمی پارٹی نے غیرمعمولی انتخابی مہم چلاتے ہوئے نریندر مودی کی کشش کو ختم کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ مودی کی قیادت میں بی جے پی نے گزشتہ سال مئی میں لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اس کے بعد کئی ریاستوں میں بھی پارٹی نے بہتر مظاہرہ کیا لیکن دہلی اسمبلی انتخابات بی جے پی اور مودی کی سحر انگیز شخصیت کیلئے ایک سخت آزمائش بن گئے ہیں۔

بی جے پی قائدین امیت شاہ اور مرکزی وزراء ایم وینکیا نائیڈو کے علاوہ ارون جیٹلی نے پہلے ہی دہلی انتخابات کو مودی حکومت کی کارکردگی پر ریفرنڈم قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ اس بیان کو وزیراعظم کو تنقیدوں سے بچانے کی کوشش سمجھا جارہا ہے۔ دہلی میں 1.33 کروڑ سے زائد رائے دہندے 673 امیدواروں کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ الیکشن کمیشن نے ہفتہ کو صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک ہونے والی رائے دہی کو پرامن بنانے کیلئے موثر انتظامات کئے ہیں۔ پہلی مرتبہ رائے دہی سے استفادہ کے بعد انگلی پر سیاہی کا نشان لکڑی کے پھایا کے بجائے برش سے لگایا جائے گا۔

ملک کی سیاست کا اہم موڑ :کجریوال
عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کجریوال نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ دہلی اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی نتیجہ ہندوستانی سیاست میں ’’اہم موڑ‘‘ ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 10 فروری کو سنائے جانے والے فیصلہ کے دوررس اثرات مرتب ہونگے۔
کجریوال جھوٹے ہیں : بیدی
بی جے پی چیف منسٹر امیدوار کرن بیدی نے عام آدمی پارٹی کنوینر اروند کجریوال پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ جھوٹے ہیں۔ بیدی نے کہا کہ آخر وہ میرے بارے میں اس حد تک جھوٹ کہیں گے ، اس کا مجھے اندازہ نہیں۔ انہوں نے عوام سے خواہش کی کہ وہ کجریوال پر بھروسہ نہ کریں۔
راہول کا ایک اور روڈ شو
کانگریس نائب صدر راہول گاندھی نے آج شمالی دہلی میں ایک اور روڈ شو کے ذریعہ رائے دہندوں سے ربط قائم کیا۔ سلطان پور ماجرا میں انہوں نے ایک کھلی گاڑی میں سفر کیا اور عوام کی کثیر تعداد راہول کے استقبال کیلئے یہاں موجود تھی۔ اس حلقہ میں ایشیا کی سب سے بڑی جھگی جھونپڑی بستی واقع ہے۔