دہلی میں شدید ترین گرمی کے دوران سنگین برقی بحران

عوام برہمی کے عالم میں سڑکوں پر نکل آئے ،کانگریس کارکنوں نے چیف سکریٹری کو دفتر میں مقفل کردیا

نئی دہلی 9 جون ( سیاست ڈاٹ کام )دہلی کے بیشتر علاقوں میں آج کئی گھنٹے برقی سربراہی مسدودی کا سلسلہ جاری رہا۔ جس پر کانگریس ارکان اسمبلی اور دیگر قائدین نے دہلی چیف سکریٹری ایس کے سریواستو کو تقریباً دیڑھ گھنٹہ ان کے کمرے میں مقفل کردیا ۔ وہ برقی اور پانی کی سربراہی میں بہتری لانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ کانگریس قائدین نے چیف سکریٹری کو کمرے کے اندر مقفل کرنے کے بعد انہیں اس وقت تک باہر جانے کی اجازت نہیں دی جب تک کہ انہوں نے تحریری طور پر یہ یقین دہانی نہیں کرائی کہ دہلی حکومت شہر میں برقی سربراہی کو بہتر بنانے کیلئے ممکنہ اقدامات کرے گی۔ بعض ارکان اسمبلی بشمول دہلی پردیش کانگریس کمیٹی سربراہ ارویندر سنگھ لؤلی نے چیف سکریٹری کے کمرے کا دروازہ بند کردی اور بعض نے دفتر کے باہر دھرنا منظم کیا اور اس وقت وہ حکومت کے خلاف نعرہ لگا رہے تھے ۔ کانگریس کارکنوں نے دہلی حکومت پر عوام کو برقی سربراہ کرنے میں پوری طرح ناکام ہونے کا الزام عائد کیا ۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان مکیش شرما نے کہا کہ لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ نے برقی اور پانی کے مسائل سے نمٹنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے ۔آج قومی دارالحکومت میں برقی کی صورتحال انتہائی ابتر رہی اور کئی مقامات پر برقی مسدود رہی جبکہ عوام شدید ترین گرمی سے پریشان تھے اور درجہ حرارت ریکارڈ 45.5 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا تھا۔ دہلی ٹرانسکو لمیٹیڈ کے کئی ٹرانسمیشن لائنس متاثر ہونے کی وجہ سے تقریبا چھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی گئی۔ ان ٹرانسمین لائن کو اب تک درست نہیں کیا جاسکا جنہیں 10 دن قبل آئے اور طوفان اور آندھی سے نقصان پہنچا تھا ۔ عوام کیلئے ایک اور بری خبر یہ ہے کہ دہلی حکومت کے ایک سرکردہ عہدیدار نے کہا کہ آئندہ تین ہفتوں تک بھی برقی کی صورتحال میں بہترین کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ مرمتی کاموں کیلئے وقت درکار ہوگا ۔ چیف سکریٹری ایس کے سریواستو نے اعلی سطحی اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لیا اور برقی محکمہ کو صورتحال میں بہتری لانے کیلئے ممکنہ کوششوں کی ہدایت دی۔ شمالی اور مغربی دہلی کے کئی علاقوں میں برہم عوام احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ۔ عام آدمی پارٹی نے بھی موجودہ صورتحال پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔