دہلی میں حکومت تشکیل دینے بی جے پی سرگرم‘ اکثریت حاصل کرنے کی مساعی

نئی دہلی ۔20جولائی (سیاست ڈاٹ کام ) دہلی بی جے پی کے صدر ستیش اوپادھیائے نے آج پارٹی کے سینئر لیڈر اور مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے ملاقات کی اور دہلی میں حکومت تشکیل دینے سے متعلق اُمور پر تبادلہ خیال کیا ۔ دہلی میں پائے جانے والی موجودہ صورتحال پر پارٹی کے ارکان اسمبلی کے خیالات کے تعلق سے بھی راجناتھ سنگھ کو واقف کروایا گیا ۔ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے راجناتھ سنگھ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اگر بی جے پی حکومت تشکیل دیتی ہے تو اس کے سامنے کوئی بڑا چیلنج کھڑآ نہیں ہوگا ۔ راجناتھ سنگھ سے تقریباً نصف گھنٹہ بات چیت کے بعد اوپادھیائے نے کہا کہ پارٹی ہی یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا اگر لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ نے تشکیل حکومت کی دعوت دی تو بی جے پی کو قدم اٹھانا چاہیئے یا نہیں ۔

اب تک حکومت بنانے کیلئے کوئی تجویز سامنے نہیں آئی ہے جو کچھ کیا جائے گا وہ دستور کے مطابق ہی ہوگا ۔ ہم حکومت بنانے کا فیصلہ اس صورت میں کریں گے جب حکومت سازی کیلئے ہم کو تجویز پیش کی جاتی ہو‘ یہ پوچھے جانے پر کہ آخر بی جے پی حکومت بنانے کیلئے اکثریت کس طرح حاصل کرے گی ‘ اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کیلئے مزید پانچ ارکان اسمبلی کی تائید درکار ہوگی ۔ اس پر انہوں نے صرف یہ کہا کہ پارٹی اس سوال کا اس وقت جواب دے گی جب حکومت بنانے کیلئے اس کو مدعو کیا جائے ۔ فی الحال بی جے پی تنہا طور پر اپنی حلیف پارٹی اکالی دل کے واحد رکن اسمبلی کے ساتھ 29 ارکان کی اکثریت رکھتی ہے

اس کو 70رکنی اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کیلئے مزید پانچ ارکان اسمبلی کی تائید کی ضرورت ہوگی ۔ فی الحال اسمبلی کی مؤثر اکثریت 67 کی ہے کیونکہ بی جے پی ارکان اسمبلی لوک سبھا کیلئے منتحب ہوئے ہیں ۔ انسداد و انحراف قانون کے تحت موجود دفعات سے بچنے کیلئے کانگریس کے 8ارکان اسمبلی کے منجملہ 16ارکان اسمبلی پارٹی چھوڑ دیں گے ۔ کل ہی کانگریس نے میڈیا کے سامنے اپنے ارکان اسمبلی کی پریڈ کروائی تھی اور یہ بتایا تھا کہ اس کے تمام ارکان اسمبلی متحدہ ہیں اور پارٹی کی صف میں مضبوطی سے کھڑے ہیں ۔ کانگریس نے کسی بھی امکانی پھوٹ کو مسترد کردیا تھا ۔ ذرائع نے کہا کہ اوھادھیائے نے راجناتھ سنگھ کو بتای دیا کہ پارٹی کے ارکان اسمبلی تازہ انتخابات کرانے سے پس و پیش ظاہر کررہی ہیں۔
چار دن قبل ہی اس سے ملاقات کے دوران واضح کردیا گیا ہے‘ تاہم بی جے پی دہلی کے سینیئر قائدین حکومت بنانے کے حامی نہیں ہیں ۔ اس سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ انتخابات کا مقابلہ کیا جائے کیونکہ بی جے پی کو لوک سبھا انتخابات میں واضح 70اسمبلی حلقوں کے منجملہ 60 حلقوں میں کامیابی حاصل ہوگی ۔ اس دوران آر ایس اسی لیڈر رام مادھو نے جو حال ہی میںبی جے پی میں شامل ہوئے ہیں ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ آر ایس ایس نے بی جے پی قائدین سیکہا ہے کہ وہ دہلی میںحکومت تشکیل دینے کی کوشش نہ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹس قیاس آرائیوں اور عیردرست معلومات پر مبنی ہے ۔ عام آدمی پارٹی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کانگریس کے ارکان اسمبلی کو فی کس 20کروڑ روپئے میں خریدنے کی کوشش کررہی ہے ۔